30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تھا ۔ اسی بنا پر متعدد ائمہ کوفہ کو شیعہ کہا گیا ۔ بلکہ کبھی محض غلبئہ محبت اہل بیت کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کوشیعت سے
تعبیر کرتے حالانکہ یہ محض سنیت ہے ۔
امام ذہبی نے تذکرۃالحفاظ میں خود انہیں محمد بن فضیل کی نسبت تصریح کی کہ ان کا تشیع
صرف موالات تھا و بس ۔
رابعا: ذرا رواۃ صحیحین دیکھ کر شیعی کو رافضی بنا کر تضعیف کی ہوتی ۔ کیا بخاری ومسلم سے بھی ہاتھ دھونا ہے ۔ انکے رواۃ میں تیس سے زیادہ ایسے لوگ جنہیں اصطلاح قدماء پربلفظ تشیع ذکر کیا
جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ تدریب میں حاکم سے نقل کیا ۔
کتاب مسلم ملآن من الشیعۃ ،
مسلم کی کتاب شیعوں سے بھری ہوئی ہے ۔
دور کیوں جائیے خود یہی ابن فضیل کہ واقع کے شیعی صرف بمعنی محب اہل بیت کرام اور آپ کے زعم میں معاذ اللہ رافضی صحیحین کے راوی ہیں ۔
لطیفہ ۲ : امام طحاوی کی حدیث بطریق ، ابن جابر عن نافع ، پر بشر بن بکر سے طعن کیا کہ ’’ و ہ غریب الحدیث ہے ، ایسی روایتیں لاتا ہے کہ سب کے خلاف ، قالہ الحافظ فی التقریب ،
معیار الحق ‘‘
اقول :
اولا : ذرا شرم کی ہوتی کہ یہ بشر بن بکر رجال صحیح بخاری سے ہیں ۔ صحیح حدیثیں رد
کرنے بیٹھے تو اب بخاری بھی بالائے طاق ہے ۔
ثانیا: اس صریح خیانت کو دیکھئے کہ تقریب میں صاف صاف بشر کو ثقہ فرمایا تھا ہضم
کرگئے ۔
ثالثا : محدث جی ! تقریب میں ’’ ثقۃ یغرب‘‘ ہے ۔ کسی ذی علم سے سیکھو کہ ’’ فلان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع