30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
افادۂ اولیٰ : لا مذہب ملا کو جب کہ انکا ر جمع صوری میں چاند پر خاک اڑانی تھی ۔ اور احادیث مذکور صحاح مشہورہ میں موجود و متداول ، تو بے رد صحاح چارئہ کار کیا تھا ۔ لہذا بایں پیرانہ
سالی ، حضرت کے رقص جمالی ملاحظہ ہوں۔
لطیفہ۱:ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث جلیل و عظیم کے پہلے طریق صحیح مروی سنن ابی دائود
کو محمد بن فضیل کے سبب ضعیف کہا ۔
اقول:
اولا : یہ بھی شرم نہ آئی کہ یہ محمد بن فضیل صحیح بخاری و صحیح مسلم کے رجال سے ہے ۔
ثانیا : اما م ابن معین جیسے شخص نے ابن فضیل کو ثقہ ، امام احمد نے حسن الحدیث ، امام نسائی نے
لا بأس ( اس میں کوئی نقص نہیں ) کہا ، امام احمد نے اس سے روایت کی اور وہ جسے ثقہ نہیں جانتے
اس سے روایت نہیں فرماتے ، میزان نے اصلا کو ئی جرح مفسر اسکے حق میں ذکر نہ کی ۔
ثالثا : یہ بکف چراغی قابل تماشا کہ ابن فضیل کے منسوب برفض ہونے کا دعوی کیا اور ثبوت
میں عبارت تقریب ’ رمی بالتشیع۔ ‘
ملاجی کوبایں سالخور دی و دعوی محدثی آج تک اتنی خبر نہیں کہ محاورات سلف و اصطلاح
محدثین میں تشیع و رفض میں کتنا بڑا فرق ہے ۔
زبان متاخرین شیعہ روافض کو کہتے ہیں ۔ خذلہم اللہ تعالیٰ جمیعا ، بلکہ آج کل کے بیہودہ مہذبین روافض کو رافضی کہنا خلاف تہذیب جانتے اور انہیں شیعہ ہی کے لقب سے
یاد کرنا ضروی مانتے ہیں ۔ خود ملا جی کے خیال میں اپنی ملائی کے باعث یہ ہی تازہ محاورہ تھا یا عوام کو دھوکا دینے کیلئے متشیع کو رافضی بنایا ۔ حالانکہ سلف میں جو تمام خلفائے کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ حسن عقیدت رکھتا اور حضرت امیر المؤمنین مولی علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو ان میں افضل جانتا شیعی کہلا تا ۔ بلکہ جو صرف امیر لمؤمنین عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تفضیل دیتا اسے بھی شیعہ کہتے ۔ حالانکہ یہ مسلک بعض علمائے اہل سنت کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع