30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
، و امام زفربن الہذیل ، و امام حسن بن زیاد ، و امام دار الہجرۃ عالم المدینہ
مالک بن انس فی روایۃ ابن قاسم اکابر تبع تابعین رضی اللہ تعالیٰ عنہم ۔
و اما م عبد الرحمن بن قاسم عنقی تلمیذ امام مالک ، و امام عیسی بن ابان ، و امام ابو جعفر
احمد بن سلامہ مصری و غیرہم ائمہ دین ، رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔
تحقیق مقام یہ ہے کہ جمع بین الصلوتین یعنی دو نمازیں ملا کر پڑھنا دو قسم ہے ۔
۱۔ جمع فعلی: جسے جمع صوری بھی کہتے ہیں ۔
کہ واقع میں ہر نماز اپنے وقت میں واقع مگر ادا میں مل جائیں ۔ جیسے ۔ ظہر اپنے آخر وقت میں پڑھی کہ اسکے ختم پر وقت عصر آگیا ۔ اب فورا عصر اول وقت پڑھ لی ۔ ہوئیں تو دونوں اپنے اپنے وقت پر اور فعلا و صورۃ مل گئیں ۔ اسی طرح مغرب میں دیر کی یہاں تک کہ شفق ڈوبنے پر آئی اس وقت پڑھی ۔ ادھر فارغ ہوئے کہ شفق ڈوب گئی عشا کا وقت ہو گیا وہ پڑھ لی ۔ ایسا ملا نا بعذر مرض و ضرورت سفر بلا شبہ جائز ہے ۔ ہمارے علما ء کرام بھی اسکی رخصت دیتے ہیں
۲۔ جمع وقتی : جسے جمع حقیقی بھی کہتے ہیں۔
یعنی بمعنی مصطلح قائلان جمع کہ جو معنی جمع انکامذہب ہے وہ حقیقۃ اسی صورت میں ہے ۔
ورنہ جمع اپنے اصل معنی پر دونوں جگہ حقیقی ہے کما لا یخفی۔
اور اسی لحاظ سے جمع فعلی کو صوری کہتے ہیں ورنہ حقیقۃ فرائض میں یہ جمع بھی جمع صوری ہی ہے ۔ ان میں تداخل محال تو جب ملیں گے صورۃ ملیں گے ۔ اور معنی جدا فافہم فانہ نفیس جدا اس جمع کے یہ معنی ہیں کہ ایک نماز دوسری کے وقت میں پڑھی جائے جس کی دو صورتیں ہیں
جمع تقدیم
کہ وقت کی نماز مثلا ظہر یا مغرب پڑھ کر اسکے ساتھ ہی متصل بلا فصل پچھلے وقت کی نماز
مثلا عصر یا عشا پیشگی پڑھ لیں ۔
جمع تاخیر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع