30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حضرت عبدا للہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ مکہ سے واپس ہوئے تو راستہ ہی میں تھے کہ انکو انکی بیوی حضرت صفیہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۵۲۸۔ السنن للنسائی، المواقیت ، ۱/۷۰ ٭ شرح معانی الآثار للطحاوی، ۱/۱۱۲
السنن للدار قطنی، ۱/۳۹۴ ٭
بنت ابو عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں اطلاع ملی کہ وہ موت کے قریب ہیں تو آپ نے سفر تیز کر دیا ۔ انکی عادت کریمہ یہ تھی کہ جب مغرب کی اذان ہوتی تو نماز کے لئے فوراً اترتے ۔لیکن اس رات اذان کے بعد بھی سفر جاری رکھا یہاں تک کہ رات آگئی ۔ ہم سمجھے کہ شاید نماز کے بارے میں بھول گئے ۔ لہذا یاد دلانے کی غرض سے ہم نے کہا: نماز ، لیکن پھر بھی سفر جاری رکھا یہاں تک کہ جب شفق ڈوبنے کے قریب ہوئی تو سواری سے اترے اور مغرب پڑھی ،اور شفق ڈوب گئی تو عشاء پڑھی ، پھر ہماری طرف منھ کرکے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ
وسلم کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے تھے جب سفر میں جلدی ہوتی ۔
۵۲۹۔ عن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال : رٔأیت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اذا عجلہ السیر فی السفر یؤخر صلوۃ المغرب حتی یجمع بینہا و بین العشاء ، قال: سالم و کان عبداللہ یفعلہ اذا عجلہ السیر ، و یقیم
المغرب فیصلیہا رکعتین۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب سفر میں جلدی ہوتی تو مغرب کی نماز اتنی مؤخر کر دیتے کہ مغرب اورعشاء کی ساتھ ساتھ پڑھتے ۔ حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بھی جب سفر میں جلدی ہوتی تو ایسا ہی کرتے ۔ کہ مغرب کی اقامت کہہ کر تین رکعتیں پڑھ لیتے پھر سلام پھیر کر تھوڑی دیر ٹھہرتے ۔ پھر عشاء کی
اقامت کہہ کر دو رکعتیں پڑھتے۔۱۲م
۵۳۰۔ عن اُم المؤمنین عائشۃ الصدیقۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قالت : کان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فی السفر یؤخر الظہر و یقدم العصر و یؤخر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع