30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اسے یہ ہی ایک دو راوی روایت فرمائیں ۔
تو بلا شبہ یہ ہی جمع صوری فرمائی جس میں نہ وقت بدلا ، نہ کسی حکم میں تغیر نے راہ پائی کہ اسکے اشتہار پر دواعی متوفر ہوتے نظر انصاف صاف ہو تو صرف ایک یہ ہی کلام تمام دلائل خلاف کو بس ہے ۔ کہ جب با وصف تو فردوا عی نقل احاد ہے تو لا جرم جمع صوری پر محمول کہ تو فر مہجور ، اور بالفرض کوئی روایت مفسرہ نا قابل تاویل ملے تو متروک العمل کہ ایسی جگہ احاد رہنا عقل سے دور
سادسا: نمازوں کیلئے تعیین و تخصیص اوقات آیات قرآن عظیم و احادیث حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے قطعی الثبو ت ہے ۔ اگر کہیں اسکاخلاف مانیئے تو وہ بھی ویسا ہی قطعی چائیے
جیسے عصر عرفہ و مغرب مزدلفہ کا اجماعی مسئلہ ، ورنہ یقینی کے مقابل ظنی مضمحل ۔
سابعا: بالفرض اگر مثل منع دلائل جمع بھی قابل سماع تسلیم کیجئے تا ہم ترجیح منع کو ہے کہ جب حاضر و مبیح مجتمع ہوں تو حاضر مقدم ہے ۔
ثامنا۔جانب جمع صرف نقل فعل ہے ، قول اگر ہے تو جمع صوری میں ، جانب منع دلائل قولیہ و
فعلیہ دونوں موجود اور قول فعل پر مرجح تو مجموع قول و فعل محض نقل فعل پر بدرجئہ اولی ۔
تاسعا: افقہیت راوی اورمرجح منع ہے کہ ابن عمر و انس میں کسی کو فقاہت جلیلہ عبد اللہ بن
مسعود تک رسائی نہیں ، رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔
یہ وہی ابن مسعود ہیں جنکی نسبت حدیث میں ہے ۔ حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
تمسکوا بعہد ابن ام عبد
ام عبد کے عہد کو لازم پکڑ و،
مرقاۃ میں ہے ۔ اسی لئے ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ انکی روایت و قول کو
خلفائے اربعہ کے بعد سب صحابہ کے قول پر ترجیح دیتے ہیں ۔
یہ وہی ابن مسعود ہین جنہیں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صاحب سر رسول اللہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع