30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
راوی بھی آپ نے دیکھا کون ہیں ۔ امیر المؤمنین فی الحدیث ۔
امام شعبہ بن ا لحجاج جنہیں التزام تھا کہ ضعیف لوگوں سے روایت نہ کریںگے ۔ جسکی تفصیل فقیر کے رسالہ منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین ۱۳۰۱ھ میں مذکور ۔ وہ اور
ابن ارقم سے روایت ، مگر ناواقفوں سے ان باتوں کی کیا شکایت ۔
خامساً: حضرت کواپنی پرانی مشق صاف کرنے کو اسی طرح کا ایک اور نام ہاتھ لگا۔یعنی خالد۔
امام نسائی نے فرمایاتھا : اخبرنا اسمعیل بن مسعود عن خالد عن شعبۃ ، بے
دھڑک حکم لگا دیا ۔ کہ یہاں اس سے مراد خالد بن مخلد رافضی ہے ۔
ملاجی ! پانچ پیسے کی شیرینی تو ہم بھی چڑھائیںگے اگر ثبوت دو کہ یہاں خالد سے یہ شخص مراد ہے۔ ملاجی !تم کیا جانو کہ ائمہ محدثین کس حالت میں اپنے شیخ کے مجر د نام بے ذکر ممیز پر
اکتفا کرتے ہیں۔
ملاجی! صحابہ کرام میں عبد اللہ کتنے بکثرت ہیں ۔ خصوصا عبادلہ خمسہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ۔ پھر کیا وجہ کہ جب بصری ’’عن عبد اللہ ،،کہیں تو عبد اللہ بن عمرو العاص ، مفہوم ہونگے
اور کو ئی کہے تو عبد اللہ بن مسعود ، رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔
پھر رواۃ ما بعد میں تو عبد اللہ صدہا ہیں ۔ مگر جب سوید کہیں حدثنا عبد اللہ ، تو خواہ مخواہ ابن المبارک ہیں ۔ محمد ین کا شمار کون کر سکتا ہے ۔ مگر جب بندار کہیں عن محمدعن شعبۃ ، تو غندر کے سوا کسی طرف ذہن نہ جائیگا ۔ وعلی ھذا القیاس ۔ صدہا مثالیں ہیں جنہیں ادنی خدا م،حدیث
جانتے پہچانتے سمجھتے ہیں ۔
ملا جی ! یہ خالد امام اجل ثقہ ثبت حافظ جلیل الشان خالدبن حارث بصری ہیں ۔ کہ امام شعبہ بن الحجاج بصری کے خلص تلامذہ او رامام اسمعیل بن مسعود بصری کے اجل اساتذہ اور
رجال صحاح ستہ سے ہیں ۔
اسمعیل بن مسعود کو ان سے اور انہیں شعبہ سے اکثار روایت بدرجہ غا یت ہے ۔
اسی سنن نسائی میں اسمعیل کی بیسوں روایا ت ان سے موجو د ، ان میں بہت خاص اسی طریق سے ہیں ۔ کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع