30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث نسائی کی نا مقبول اور مجروح اور متروک ہے ۔ دو راوی اسکے مجروح ہیں ۔ ایک سلیمان بن ارقم کہ اسکی توثیق کسی نے نہیں کی ۔ بلکہ ضعیف کہا اسکو تقریب میں ، سلیمان بن ارقم ضعیف ،اور ایک خالد بن مخلد کہ یہ شخص رافضی تھا اور صاحب احادیث افراد کا، کہا تقریب میں خالدبن مخلد صدوق متشیع
ولہ افراد ۔، ’’معیار الحق مصنفہ میاں نذیر حسین ملاجی ‘‘
اقول : اولا۔ وہی ملا جی کی قدیمی سفاہت ، تشیع ورفض کے فرق سے جہالت ۔
ثا نیا : صحیحین سے وہی پرانی عداوت ، خالد بن مخلد نہ صرف نسائی بلکہ بخاری و مسلم وغیرہما جملہ
صحاح ستہ کے رجال سے ہیں ۔ امام بخاری کے استاد ، اور مسلم وغیرہ کے استاذالاستاذ۔
ثالثا: ملاجی ! تم نے تو علم حدیث کی الف ، ب، بھی نہ پڑھی ۔ اور ادعائے اجتہاد کی یوں بے وقت چڑھی ۔ ذرا کسی پڑھے لکھے سے ضعیف ومتشیع ، صاحب افراد و متروک الحدیث میں فرق سیکھو ۔ متشیع و صاحب افراد ہونا تو اصلا موجب ضعف نہیں ۔ صحیحین دیکھئے ۔ انکے رواۃ میں کتنے متشیع موجو د ہیں ۔ او ر ’’لہ افراد ،، والوں کی کیا گنتی ۔ جبکہ ہم حواشی فصل اول میں بکثرت لہ اوھام یھم ، ربما وھم ، یخطی ، یخطی کثیر ا ، کثیر الخطاء ، کثیر الغلط ، وغیرہا والے ذکر کر آئے ۔ رہا ضعیف ،اس میں اور متروک میں بھی زمین آسمان کا بل ہے ۔ضعیف کی حدیث معتبر و مکتوب اور متابعت و شواہد میں مقبول و مطلوب ہے ۔ بخلاف متروک ،
اس معنی اور اسکے متعلقا ت کی تحقیقات جلیلہ فقیر غفرلہ القدیر کے رسالہ،۔ الھاد الکاف فی حکم الضعاف ۱۳۱۳ھ میں مطالعہ کیجئے ۔ اور سر دست اپنی مبلغ علم تقریب ہی دیکھئے کہ ضعیف درجہ ثانیہ او ر متروک اسکے دوپا یہ نیچے درجہ عاشرہ میں ہے ۔ خود بعض ضعفا
رجا ل شیخین میں اگرچہ متابعۃ یا یوں بھی واقع جس سے انکا ر نا متروک ہونا واضح ۔
رابعاً: یہ سب کلام ملاجی کی غیبی بولی ، عیبی احکام مان کر تھا ۔ حضرت کی اندرونی حالت دیکھئے تو پھرحسب عادت جو رواۃ حدیث بے نسب و نسبت پائے ان میں جہاں تحریف و تصرف کا موقع
ملا وہی تبدیل کا رنگ لائے۔ سند میں تھا ’’ عن شعبۃ عن سلیمان ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع