30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خود انہیں نمازوں کے بارے میں امام سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہم کا ارشاد دیکھئے ۔ کہ پوچھا گیا ۔کیا عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سفر میں کوئی نماز جمع کر تے تھے ۔
فرمایا : لا الا بجمع ،نہ مگر مزدلفہ میں ، کما قد منا عن سنن النسائی ، یہاں بھی
کہہ دیجیو کہ جمع سفر کو شہرۃ چھوڑ دیا ہے ۔
اور سنئے ،امام ترمذی اپنی صحیح میں فرماتے ہیں ۔
العمل علی ھذا عند اہل العلم ان لا یجمع بین الصلاتین الا فی السفر او
بعرفۃ ۔
اہل علم کے یہاں عمل اسی پر ہے کہ بغیر سفر اور یوم عرفہ دو نمازیں جمع نہ کریں ۔
امام ترمذی نے صرف نماز عرفہ کا استشناء کیا نماز مزدلفہ کو چھوڑ دیا ۔ تو ہے یہ کہ دونوں جمعین متلازم ہیں اور ایک کا ذکر دوسری کا یقیناً مذکر ۔ خصوصاً نماز عرفہ کہ اظہر و اشہر ۔تو مزدلفہ کا ذکر دونوں کا ذکر ہے ، غرض ان ’صلاتین ‘ کی دوسری نماز ظہر عرفہ ہے نہ فجر نحر ۔وہ مسئلہ جدا گانہ کا افادہ ہے ۔ کہ دو نماز یں تو غیر وقت میں پڑھیں اور فجر وقت معمول سے پیشتر تاریکی میں ،اور بلا شبہ اجماع امت ہے کہ فجر حقیقۃً وقت سے پہلے نہ تھی ،نہ ہرگز کہیں کبھی اس کا جواز اور خود اسی حدیث ابو مسعود کے الفاظ مسلم کے یہاں بروایت جریر عن الاعمش ،قال قبل وقتہا بغلس
اس پر شاہد ،اگر رات میں پڑھی جاتی تو ذکر غلس کے کیا معنی تھے ۔
صحیح بخاری میں تو تصریح صریح ہے کہ فجر بعد طلوع فجر پڑھی ۔
۵۱۸۔ عن عبدالرحمن بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال خرجت مع عبداللہ الی مکۃ ثم قدمنا جمعا فصلی الصلاتین کل صلوۃ وحدہا بأذان و اِقامۃ و
العشاء بینہا ثم صلی الفجر حین طلع الفجر۔
حضرت عبد الرحمن بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مکہ گیا ۔ پھر ہم مزدلفہ آئے تو آپ نے د ونمازیں جمع کیں ایک ہی اذان واقامت سے۔ درمیان میں رات کاکھانا کھایا۔ پھر طلوع فجر کے بعد صبح کی نماز
پڑھی۔۱۲م
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع