30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طرف نسبت کی ۔ مگر اسے بہت پسند کر کے بلا نقل و نسبت اپنے نامہ اعمال میں ثبت
رکھا حالانکہ یہ بھی کلام امام نودی میں مذکور اور فتح الباری و غیر ہ میں ماثور تھا۔ شہرت جمع عرفات سے جو جواب امام محقق علی الاطلاق محمد بن الہمام و غیرہ علما ء اعلام حنفیہ کرام نے افادہ فرمایا ۔ اس کا نفیس و جلیل مطلب ملا جی کی فہم تنگ میں اصلا نہ دھنسا ۔ اجتہاد کے نشہ میں ادعائے
باطل شہرت جمع سفر کا آوازہ کسا، اب فقیر غفرلہ القدیر سے تحقیق حق سنئے۔
اولا: فاقول وبحول ربی اصول۔ ملاجی جواب علماء کایہ مطلب سمجھئے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھیں توتین نمازیں غیر وقت میں ۔ مگر ذکر دو کیں ۔ مغرب و صبح مزدلفہ ، اور تیسری یعنی عصر عرفہ کو بوجہ شہرت ذکر نہ فرمایا: جس پرآپ نے یہ کہنے کی گنجائش سمجھی کہ یونہی جمع سفر بھی بوجہ شہرت ترک کی ۔اس ادعائے باطل کا لفافہ تو بحمد اللہ اوپر کھل چکا
کہ شہرت درکنار نفس ثبوت کے لالے پڑے ہیں ۔
حضرت نے چودہ صحابہ کرام کا نام لیا پھر آپ ہی دس سے دست بردار ہوئے ۔ چارباقی ماندہ میں دو کی روایتیں نری بے علاقہ اتر گئیں ۔رہے دو ،وہاں بعونہ تعالی وہ قاہر جواب پائے
کہ جی ہی جانتا ہوگا ۔
اگر بالفرض دو سے ثبوت ہو بھی جاتا تو کیا صرف دو کی روایت قرن صحابہ میں شہرت ہے ۔مگر یہاں تو کلام علماء کا وہ مطلب ہی نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے صرف انہیں دو نمازوں عصر عرفہ و مغرب مزدلفہ کا غیر وقت میں پڑھنا ثابت ۔ انہیں دو کو ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے دیکھا ۔انہیں دو کو صلاتین کہہ کر یہاں ارشاد فرمایا ۔ اگر چہ تفصیل میں بوجہ شہرت عامہ تامہ ایک کا نام لیا ۔صرف ذکر مغرب پر اقتصا ر فرمایا ۔ ایسا اکتفا
کلام صحیح میں شائع ۔
قال عزوجل ۔
وجعل لکم سرابیل تقیکم الحر ۔
اور تمہارے لئے لباس بنائے جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع