30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طبقے کی کتاب کو کہا کہ اس کتاب کی حدیث بدوں تصحیح کسی محدث کے یا پیش کرنے سند کے کیونکر تسلیم کی جاوے ۔ یہ کتاب اس طبقے کی ہے جس میں سب اقسام کی حدیثیں صحیح اور سقیم مختلط ہیں ۔ یہ کیا دھرم ہے کہ اوروں پر منہ آؤ اور اپنے لئے ایک رامپوری
ملا کی تقلید سے حلال بتائو ۔ اتخذ وا احبار ہم ورھبانہم
ثانیا: ملاجی ، کسی ذی علم سے التجا کرو تووہ تمہیں صریح و مجمل اور متعین ومحتمل کا فرق سکھا ئے ۔ حدیث صحیحین انکار جمع حقیقی میں نص صریح ہے اور روایت ابی یعلی حقیقی جمع کا اصلاً پتہ نہیں دیتی ۔ بلکہ احادیث جمع صوری میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیثیں صاف صاف جمع صوری بتا رہی ہیں ۔ تمہاری ذی ہوشی کہ نص ومحتمل کو لا کر اختلاف محامل سے راہ توفیق ڈھونڈتے
ہو ۔
لطیفہ اقول : ملا جی کااضطراب قابل تماشہ ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہیں راوی جمع ٹھہرا کر عدد رواۃ پندرہ بتاتے ہیں ۔ کہیں نافی سمجھ کر چودہ ۔ صدر کلام میں جہاں راویان جمع گنائے صاف صاف کہا ابن مسعود فی احدی الروایتین ، اب رامپوری ملا کی تقلید سے وہ احدی
الروایتین بھی گئی ۔ ابن مسعود خاصے مثبتان جمع ٹھہرگئے ۔
سوم : جسے ملا جی بہت ہی علق نفیس سمجھے ہو ئے ہیں ۔ ان دو کو عربی میں بولے تھے ۔ یہاں
چمک چمک کر اردو میں چہک رہے ہیں کہ۔
اگر کہو جس جمع کو ابن مسعود نے نہیں دیکھا وہ درست نہیں تو تم پر یہ پہاڑ مصیبت کا ٹوٹیگا کہ جمع بین الظہر اور عصر کو عرفات میںکیو ںدرست کہتے ہو با وجود یکہ اس قول ابن مسعود سے تو نفی جمع فی العرفات کی بھی مفہوم ہوتی ہے ۔ پس جو تم جواب رکھتے ہو اسی کو ہماری طرف سے سمجھو یعنی اگر کہو نہ ذکر کرنا ابن مسعود کا جمع فی العرفات کوبنابر شہرت عرفات کے تھا تو ہم کہنگے کہ جمع فی السفر بھی قرن صحابہ میں مشہور تھی ۔ کیونکہ چودہ صحابی سو بن مسعود کے اسکے ناقل ہیں ۔ تو اسی واسطے ابن مسعود نے اسکا استثناء نہ کیا ۔ اور اب محتمل نفی کا جمع بلا عذر ہوگی ۔ اور اگر کہو کہ جمع فی العرفات بالمقائسہ معلوم ہوتی ہے تو ہم کو کون مانع ہے مقاتسہ سے ۔ وعلی ہذا القیاس جو جواب تمہار
ا ہے وہی ہمارا ہے ۔
معیار الحق مصنفہ میاں نذیر حسین ملاجی
اس جواب کو ملا جی گل سر سبز بنا کر سب سے اول ذکر کیا ۔ ان دو کی تو امام نووی و سلام اللہ رامپوری کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع