30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بن الحارث عن مکحول۔
سیدنا حضرت امام محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ حدیث پہونچی کہ امیر المؤمنین امام العادلین ناطق بالحق والصوا ب عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام آفاق میں فرمان واجب الاذعان نافذ فرمائے۔ کہ کوئی شخص ایک وقت میں دو نمازیں نہ جمع کر نے
پائے اور ان میں ارشاد فرمایا: ایک وقت میں دو نمازیں ملانا گناہ کبیرہ ہے ۔
]۹[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
الحمد للہ ،امام عادل فارق الحق والباطل نے حق واضح فرمایا ۔اور انکے فرمانوں پر
کہیں سے انکار نہ آنے نے گویا مسئلہ درجہ اجماع تک مترقی کیا ۔
اقول :یہ حدیث بھی ہمارے اصول پر حسن جید حجت ہے ۔ علاء بن الحارث تابعی
صدوق فقیہ رجال صحیح مسلم وسنن اربعہ سے ہیں ۔
نیز علا ء کا مختلط ہونا ہمارے نزدیک مضر نہیں جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ یہ روایت اس اختلاط سے بعدلی گئی ہے ۔ کیونکہ شیخ ابن ہمام نے فتح القدیر کتاب الصلو ۃ باب الشہید میں احمد کی روایت ذکر کی ہے جسکا ایک راوی عطاء بن سائب ہے اور عطا ء بن سائب کا مختلط ہونا سب کو معلوم ہے ۔ مگر ابن ہمام نے کہا مجھے امید ہے کہ حماد بن سلمہ نے یہ روایت عطا ء کے اختلاط میں مبتلاء ہونے سے پہلے اس سے اخذکی ہوگی ۔ پھر اسکی دلیل بیان کی کہ اگر ابہام پایا
بھی جائے تو حسن کے درجے سے کم نہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۵۱۶۔ المؤطا لمحمد ، الجمع بین الصلوتین ۱۳۲٭
اور امام مکحول ثقہ فقیہ حافظ جلیل القدر بھی رجال مسلم واربعہ سے ہیں ۔
نیز مرسل ہمارے اور جمہور کے نزدیک حجت ہے ۔ رہاامام محمد کے اساتذہ کا مبہم ہونا ، تو مبہم کی توثیق ہمارے نزدیک مقبول ہے ۔ جیسا کہ مسلم وغیرہ میں ہے ۔ خصوصا جب توثیق کر
نے والی امام محمد جیسی ہستی ہو ۔
او ر اس سے قطع نظر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ متعدد اسنادوں سے مروی ہونے کی وجہ سے اسکی یہ خامی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع