30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵۰۵۔ الجامع الصحیح للبخاری ، المواقیت الصلوۃ ۱/۷۶ ٭ التمہید لابن عبد البر ، ۵/۷
السنن اللنسائی، تعجیل الظہر فی البرد ، ۱/۵۸ ٭
وسلم جب گرمی ہوتی نماز ٹھنڈی کرتے اور جب سردی ہوتی تعجیل فرماتے ۔
۵۰۶۔ عن أبی ذر الغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : اذن موذن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم الظہر فقال : أبْرِدْ ، او قال : اِنْتَظِرْ اِنْتَظِرْ و قال : شِدَّۃُ الْحَرِّ مِنْ
فَیْحِ جَہَنَّمَ فَاِذَا اِشْتَدَّ الْحَرُّ فَأبْرِدُوْا عَنِ الصَّلٰوۃِ، حتی رأینا فئی التلول۔
حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مؤذن نے اذا ن ظہر دینا چاہی ۔ رسول اللہ صٓلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ٹھنڈا کر ، ٹھنڈا کر ۔یا فرمایا : انتظار کر انتظار کر ۔ اور فرمایا ۔ گرمی کی سختی جہنم کی وسعت نفس سے
ہے ۔ تو جب گرمی زائدہو تو نماز ٹھنڈ ی کرو یہاں تک کہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھا ۔
فتاوی رضویہ ۲/۴۴۳
]۵[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
اب یہاں سے مبالغۂ تاخیر کا اندازہ کرنا چاہیئے کہ مؤذن نے تین بار اذا ن کا
ارادہ کیا اور ہر دفعہ ابر ا د کا حکم ہوا۔ اور یقینا معلوم ہے کہ ہر دو ارادوں میں اس قدر فاصلہ ضرور تھا جسکو ابرا د کہہ سکیں ۔ اور وہ وقت بہ نسبت پہلے وقت کے ٹھنڈا ہو۔ ورنہ لازم آئے کہ سیدنا حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے معاذ اللہ تعمیل حکم نہ کی ۔ اور اذان میں یہ تاخیر ہوئی تو نماز تو اور دیر میں ہوئی ہوگی ۔
علماء فرماتے ہیں ۔ ٹیلے غالبا بسیط اور پھیلے ہوئے ہوتے ہیں کہ انکا سایہ دوپہر کے بہت
بعد ظاہر ہوتا ہے بخلاف اشیاء مستطیلہ مانند مناروں دیوار وںوغیرہما۔
امام احمد بن خطیب قسطلانی ارشادالسار ی شرح صحیح البخاری میں فرماتے ہیں ۔ ٹیلوں کا
سایہ ظاہر نہیں ہوتا مگر جب اکثروقت ظہر کا جاتا رہے ۔
فتاوی رضویہ ۲/۴۴۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع