30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوتا ۔ بہت دیر کے بعد ظاہر ہوتا ہے ۔
امام اجل ابو زکریا نو وی شافعی شرح مسلم شریف میں فرماتے ہیں ۔
التلول منطحۃ غٰر منتصبۃ و لا یصیر لہا فیٔ فی العادۃ الا بعد زوال الشمس
بکثیر
ٹیلے زمین پر پھیلے ہوتے ہیں نہ بلند ۔ عادۃ انکا سایہ نہیں پڑتا مگر سورج ڈھلنے کے بہت
دیر بعد ۔
امام ابن اثیر جزری شافعی نہایہ میں فرماتے ہیں ۔
ہی منبطحۃ لا یظھر لہا ظل الا ذھب اکثر وقت ا لظھر ۔
ٹیلے پست ہوتے ہیں ۔ انکے لئے سایہ ظا ہرہی نہیں ہوتا مگر جب ظہر کا اکثر وقت جاتا
رہے ۔
جب خود ائمہ شافعیہ کی شہادت سے ثابت اور نیز مشاہدہ وعقل وقواعد علم ظل شاہد کہ ٹیلوں کے سایہ کی ابتد ا زوال سے بہت دیر کے بعد ہوتی ہے تو ظا ہر ہے کہ سایہ ٹیلو ں کے برابر اس وقت پہونچے گا جب بلندچیزوں کا سایہ ایک مثل سے بہت گذر جائیگا ۔ اس وقت تک حضور اقدس صلی اللہ تعا لیٰ علیہ وسلم نے گرمیوں میں ظر ٹھنڈی کرنے کا حکم فرمایا: او راسکے بعد مؤذن کو اجازت عطا ہوئی ۔ تو بلا شبہ دوسرے مثل میں وقت ظہر باقی رہنا ثابت ہوا ۔ جیسا کہ ہمارے اما م
اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مذہب ہے ۔ ۔
یہ دلیل ساطع بحمد اللہ تعالیٰ لاجواب تھی یہاں ملا جی (میاں نذیر حسین غیر مقلد) حالت اضطراب میں فرما گئے کہ مساوی کہنا راوی یعنی سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سایہ ٹیلوں
کو ظا ہرہے کہ تخمینا او رتقریبا ہے نہ بایں طور پر کہ گز رکھ کر ناپ لیا تھا۔
کیوں ،حضرت سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو گزر کھ کہ نہ ناپا یوں ہی تخمینا مساوات بتادی ، مگر حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گز رکھ کر ناپ لینا آپ کو معلوم ہو گیا ہوگا ۔ آخر دخول وقت عصر یوں ہی تو معلوم ہوگا کہ اس مقدار کو پہنچ جائے اس کا علم بے ناپے کیوں کر ہوا بلکہ یہاں تو غالبا ً دو ناپوں کی ضرورت ہے ایک وقت نصف نہار سے سایہ اصلی کی مقدار ناپے دوسرے اس وقت سایہ بعد ظل اصلی مقدار مطلوب پہنچایا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع