30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عشا اور فجر کو اول وقت پڑھنے کی نسبت فرمایا : ان ھاتین الصلاتین حولتا عن وقتیھما فی ھذا المکان ۔ یعنی یہ دونوں نماز یں اپنے وقت سے پھیر دی گئیں اس مکان میں۔بخاری و مسلم کی دوسر ی روایت میں بھی صلی الفجر قبل وقتہا بغلس ۔ صبح کی نماز پڑھی قبل اسکے وقت کے تاریکی میں ۔ اور قبل وقت سے قبل از طلوع فجر مراد نہیں کہ یہ خلاف اجماع ہے ۔ معہذا حدیث بخاری سے ثابت کہ فجر طالع ہو چکی تھی تو بالضرور قبل از وقت
معہود مقصود ہے ۔ وہو المطلو ب
سیدنا حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہ اس حدیث کے راوی ہیں حضرو سفر میں ملازمت والا سے مشرف رہے یہاں تک کہ لوگ انہیں اہل بیت نبوت سے گمان کرتے او ر انکے لئے استیذان معاف تھا۔ کل ذلک ثابت بالاحادیث ، توا نکا یہ فرمانا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو نہ دیکھا کہ کسی نماز کو غیر وقت پر پڑھا ہو سوا ان دو نما زوں کے۔ اس مضمون کا اور مؤید و موکد ہے ۔ او ر حکمت فقہی اس باب میں یہ ہے کہ اسفار میں تکثیر جماعت ہے جو شارع کو مطلوب و محبوب ، او رتغلیس میں تقلیل او ر لوگوں کو مشقت میں ڈالنا اور یہ دو نوں ناپسند و مکروہ ۔ اسی لئے امام کو تخفیف صلوۃ او رکبیرو ضعیف و مریض و حاجت مند کی مراعات کا حکم فرمایا: سیدنا حضر ت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جماعت میں قرأت طویل پڑھی۔لوگ شاکی ہوئے ۔ ارشاد ہوا ۔ یا معاذ ! افتان انت ، یا معاذ ! افتان انت ، قالہ ثلثاً او راول وقت نماز کی افضلیت اگر مطلقا تسلیم بھی کرلی جائے ۔ تا ہم دفع مفاسد جلب مصالح سے اہم و اقد م ہے ۔ آخر نہ دیکھا کہ تطویل قرأت پرعتاب ہو ا حالانکہ قرآن کریم جس قدر بھی پڑھا جائے احسن و افضل ہی ہے ۔ معہذا نماز فجر کے بعد تا بہ اشراق ذکر الہی میں بیٹھنا
مستحب ہے اور یہ امر اسفار میں آسان اور تغلیس کے سا تھ دشوار ہے ۔
اب رہا یہ کہ حد اسفار کی کیا ہے ۔ بدائع الصنائع اور سرا ج وہاج سے ثابت کہ وقت فجر کے دو حصہ کئے جائیں ۔ حصہ اول تغلیس او ر آخر میں اسفار ہے ۔ امام حلوانی ، قاضی امام علی نسفی وغیرہما عامہ مشائخ فرماتے ہیں کہ ایسے وقت شروع کرے کہ نماز بقر أت مسنونہ ترتیل و اطمینان کے ساتھ پڑ ھ لے ۔بعدہ نسیان حدث پر متنبہ ہو تو وضو کرکے پھر اسی طرح پڑھ سکے اور ہنوز آفتاب طلوع نہ کرے ۔ بعض کہتے ہیں کہ نہایت تاخیر چاہئے کہ فساد موہوم ہے او راسفار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع