30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضر ت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت جبرئیل
علیہ السلام حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اوقات نماز بتانے آئے ۔ تو حضرت جبرئیل آگے کھڑے ہوئے او رحضور پیچھے اور بقیہ تمام لوگ حضور کی اقتدا میں لہذا سورج ڈھلنے پر ظہرکی نماز پڑھائی اور جب سایہ ایک مثل ہوا تو پہلی مرتبہ کے مطابق حضرت جبرئیل آگے کھڑے ہوئے اور حضور پیچھے اور باقی لوگ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پیچھے تھے ۔ اور عصر کی نماز پڑھائی ۔ پھر غروب آفتاب کے وقت ایسا ہی ہوا کہ سب لوگ حضورکی اقتدامیں تھے اور حضور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۴۹۴۔ السنن للنسائی ، المواقیت ، ۱/۸۹ ٭ المسند لاحمد بن حنبل ، ۳/۱۱۲
المعجم الاوسط للطبرانی، ۲/۱۹۲ ٭ المستدرک للحاکم ، المواقیت ، ۱/۱۹۶
المؤطا لمالک ، ۳
حضر ت جبریل کے پیچھے ۔اور نما ز مغرب پڑھائی ۔ پھر شفق غائب ہونے پر عشاکی نماز اسی طرح پڑھائی ۔ پھر صبح صادق کے وقت فجر کی نماز میں بھی ایسا ہی ہو ا ۔ پھر دوسرے دن سا یہ ایک مثل ہونے پر ظہر کی نماز مثل سابق پڑھی ۔ اور د و مثل سایہ ہونے پر دوسرے دن عصر اسی طرح پڑھی ۔ پھر آفتاب غروب ہونے پر گذشتہ کل کی طرح نماز مغرب اداکی ۔پھر ہم لوگ سو گئے۔ پھر جاگے ۔ پھر سو گئے ۔ پھر جاگے تو تشریف لائے اور کل کی طرح کیا اور نما ز عشا پڑھائی ۔ پھر جب صافی پھیل گئی اتنی کہ ستارے باقی تھے اور آپس میں گتھے ہوئے تو کل کی طرح کیااور
فجر کی نماز پڑھا ئی ۔ پھر فرمایا: ان نماز ون کے درمیا ن وقت ہے ۔ ۱۲م
(۵) وقت فجر
۴۹۵۔ عن زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: تسحر نامع رسول صلی اللہ
تعالیٰ علیہ وسلم ثم قمنا الی الصلوۃ، قلت کم کان قدر ما بینھما؟ قال: خمسین
آیۃ۔
حضر ت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے حضور پر نورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی پھر نماز فجر کیلئے کھڑے ہو گئے۔ میں نے کہا : بیچ میں کتنا
فاصلہ دیا ۔ فرمایا: پچاس آیت پڑھنے کا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع