30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حین کان فی کل شیء مثلہ ،والمغرب حین غابت الشمس، والعشا ء حین غا ب الشفق ، قال: ثم صلی الظھر حین کان فی الانسان مثلہ والعصر حین کان فی الانسان مثلیہ والمغرب حین کان قبیل غیبوبۃ الشفق ،
قال: عبد اللہ بن الحارث ثم قالفی العشاء اری ثلث اللیل۔
حضر ت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روا یت ہے کہ ایک صاحب نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے اوقات نماز معلوم کئے تو حضور نے فرمایا: میرے سا تھ نماز پڑھ ، چنانچہ حضور نے ظہر کی نماز سورج ڈھلنے پر پڑھی اور عصر کی ایک مثل سایہ ہونے کے بعد ۔ اور مغرب کی غروب آفتاب کے وقت ۔اور عشا کی شفق غائب ہونے پر ۔ پھر دوسرے دن ایک مثل سایہ ہونے پر ظھر پڑھی ۔ دو مثل پر عصر ادا کی ۔ شفق کے غائب ہونے سے کچھ پہلے مغرب پڑھی حضرت عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں پھر فرمایا: مجھے خیال ہے کہ عشاتہائی رات گزرنے پر
پڑھی ۔ ۱۲م
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۴۸۵۔ المؤطا لمالک ،
۴۸۶۔ السنن للنسائی، المواقیت ۱/۸۸ ٭ شرح معانی الآثار للطحاوی ، ۱/۸۸
۴۸۷۔ عن أبی موسی الأشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان سائلا سأل البنی صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فلم یرد علیہ شیئا حتی امر بلالا فاقام للفجر حین انشق الفجر فصلی حین کان الرجل لایعر ف وجہ صاحبہ او ان الرجل لا یعرف من الی جنبہ ثم امر بلالا فاقام الظہر حین زالت الشمس حتی قال القائل انتصف النھار وھو اعلم، ثم امر بلالا فاقام العصر والشمس بیضاء مرتفعۃ، وامر بلالا فاقام المغرب حین غابت الشمس، وامر بلالا فاقام العشاء حین غابت الشفق، فلما کان من الغد صلی الفجر وانصرف، فقلنا اطلعت الشمس فاقام الظہر فی وقت العصر الذی کان قبلہ وصلی العصر وقد اصفرت الشمس او قال امسی وصلی المغرب قبل ان یغیب الشفق وصلی العشاء الی ثلث اللیل ثم قال: اَیْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتٍ،
الصَّلٰوۃُ فِیْمَا بَیْنَ ہٰذَیْنِ۔
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ایک صاحب نے نما ز کے اوقات پوچھے ۔ حضور نے کچھ جوا ب نہیں دیا ۔ یہانتک کہ حضرت بلال کو صبح صادق کے وقت اذا ن کا حکم دیا ۔ اور نما زپڑھی جبکہ اتنا اندھیرا تھا کہ آدمی برابر والے کے چہرہ کو صاف نہیں دیکھ پا رہا تھا ۔ یا برابر والے کو اچھی طرح نہیں پہچان پاتا ۔ پھر حضر ت بلال کو ظہر کی اذا ن کا حکم دیا جبکہ سورج ڈھل چکا تھا اور نما ز
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع