30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بعس ، قالت عائشۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا : کان النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یغتسل بملأ ہٰذا ، قال مجاہد : فحزرتہ فیما احزر ثمانیۃ أرطال ، تسعۃ أرطال ، عشرۃ أرطال، قال : وأخرجہ النسا ئی فقال :
حزرتہ ثمانیۃ ارطال۔
حضر ت مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ ہم میں سے کسی نے پانی مانگا تو ایک برتن میں پیش کیا گیا ۔ ام المؤمنین نے فرمایا: حضو رنبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس کو بھر کر غسل فرماتے تھے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں ۔ میں نے اسکا اندازہ لگایا تو وہ آٹھ رطل ، نو رطل ، دس رطل تھا ۔
امام نسائی نے اسکو ذکر کرکے فرمایا : میں نے اسکا اندازہ آٹھ رطل یقینی طورپر لگایا ۔
اقول: ظاہر ہے کہ پیمانے ناج کیلئے ہوتے ہیں ۔ پانی مکیل نہیں کہ اسکے لئے کوئی مد وصاع جدا موضو ع ہوں ۔بلکہ ہمارے علماء نے تصریح کی ہے کہ یہ قیمت والی چیز ہے تو یہ نہ مکیل ہے نہ موزون ۔ تو اندازہ نہ بتایا گیا مگر انہیں مد وصا ع سے جو ناج کیلئے تھے ۔ اور کسی برتن سے پانی کا اندازہ بتایا جائے تو اس سے یہ مفہوم ہوگا کہ اس بھر پانی ۔ نہ یہ کہ اس برتن میں جتنا ناج آئے
اسکے وزن کے برابر پانی۔
امر دوم : غسل میں کہ ایک صاع بھر پانی ہے اس سے مراد مع اس وضو کے ہے جو غسل میں کیا
جاتا ہے ۔ یا وضو سے جدا۔
ا مام اجل طحاوی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے معنی دوم پر تنصیص فرمائی ۔ اور وہ جو اکژ احادیث میں ایک صاع اور حدیث انس میں پانچ مد ہے اس میں یہ تطبیق دی کہ ایک مد کا اور ایک صاع
بقیہ غسل کا ۔ یوں غسل میں پانچ مد ہوئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۴۷۰۔ عمدۃ القادری للعینی، ۳/۱۹۶
امر سوم : یہ صاع کسی ناج کا تھا ۔ ظاہر ہے کہ ناج ہلکے بھا ری ہوتے ہیں ۔ جس پیمانے میں
تین سیر جو آئیں گے گیہوں تین سیرسے زیادہ آئیں گے۔ اور ماش اور بھی زاید ۔
ا بو شجاع ثلجی نے صدقئہ فطر میں ماش یا مسور کا پیمانہ لیا کہ انکے دانے یکساں ہوتے ہیں ۔ تو انکا کیل ووزن
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع