30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لفظ ’’فرق‘‘ مذکور ہے جو تین صاع کا ہوتا ہے ۔
لیکن یہ توجیہ اس بات کی محتاج ہے کہ مد بمعنی صاع زبان عرب میں آتا ہو۔ اور اس میں سخت تامل ہے ۔ صحاح و صراح و مختار وقاموس وتاج العروس لغات عرب اور مجمع البحار ونہایہ و مختصر السیوطی لغات حدیث اور طلبۃ الطلبۃ و مصباح المنیر لغات فقہ میں فقیر نے اسکاپتہ نہ پایا ۔
اور بالفرض شاذو نادر ورود ہو بھی تو اس پر حمل تجویز بے قرینہ کچھ معتبر نہیں ۔
توجیہ سوم: اس حدیث میں زیادہ کا انکار نہیں ۔ حضو ر اور ام المؤمنین معا تین مد سے نہاتے
ہوں ۔ جب پانی ختم ہو چکا ہو اور زیادہ فرمالیاہو۔
یہ توجیہ بھی بعید ہے کہ اس تقدیر پر ذکر مقدار عبث و بیکار ہوا جاتا ہے ۔ تو قریب تر وہی
توجیہ اول ہے ۔ فتاویٰ رضویہ جدید ۱/۵۸۵
۴۶۳۔ عن اُم المؤمنین عائشۃ الصدیقۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قالت: اِن رسول
اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کان یغتسل من اِناء واحد ہو الفرق من الجنابۃ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۴۶۳۔ السنن لابی داؤد ، الطہارۃ ۱/۳۱
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل جنابت فرماتے تھے اور وہ’’ فرق‘‘ تھا ۔
]۸[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
’’ فرق‘‘ میں اختلاف ہے ۔ اکثر تین صاع کہتے ہیں اور بعض دو صاع ۔ مسلم کی روایت ہے کہ حضرت سفیان نے کہا کہ’’ فرق‘‘ تین صاع ہے ۔ امام طحاوی نے یہ ہی صراحت کی ۔ امام نووی نے فرمایا: جمہور کا یہ ہی قول ہے ۔ عینی وغیرہ نے کہا کہ دو صاع ۔ نجم الدین نسفی نے طلبۃ الطلبۃ میں فرمایا: فرق ، میں سولہ رطل آتے ہیں ۔ نہایہ ابن اثیر اور صحاح جو ہری میں یہ ہی ہے۔
شرح غریبین میں ہے کہ یہ بارہ مد کا ہوتا ہے ۔ ابو داؤد نے کہا میں نے امام احمد بن حنبل کو کہتے سنا ۔ کہ فرق سولہ رطل ہوتا ہے حافظ نے فتح میں ابو عبد اللہ سے اس با ت پر اتفاق نقل کیا اور اس پر بھی کہ یہ تین
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع