30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسکے ایک معنی یہ ہوتے ہیں کہ دونوں کا غسل اسی تین مد سے ہو جاتا تھا ۔ تو ایک غسل
کوڈیڑھ مد ہی رہا ۔ مگرعلماء نے اسے بعید جانکر تین توجیہیں کی ہیں ۔
توجیہ اول : یہ کہ ہر ایک کے جد اگانہ غسل کا بیان ہے ۔ کہ حضور اسی ایک برتن سے جو تین مد
کی قدر تھا غسل فرمالیتے اور اسی طرح میںبھی۔
امام قاضی عیاض نے فرمایا :
اگر اس توجیہ پر یوں اعتراض کیا جائے کہ اس طرح انکا قول ’’فی اناء واحد ‘‘ ضائع ہو جا ئیگا ۔ کیونکہ انکی مراد اس سے یہ ہی ہے کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ تعا لیٰ علیہ وسلم کے ساتھ اکٹھے ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتی تھیں ۔ جیسا کہ خود انہوں نے دوسری روایت میں اسکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۴۶۲۔ الصحیح لمسلم ، الطہارۃ ۱/۱۴۸
صراحت کرتے ہوئے فرمایا۔
میں اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل جنابت کرتے تھے
اورہم دونوں کے ہاتھ اس برتن میں پڑتے تھے ۔
او ر ایک روایت میں ہے کہ وہ برتن میرے اور آپکے درمیان ہوتا تھا ۔ آپ مجھ سے
سبقت کی کوشش فرماتے تھے اورمیں کہتی تھی میرے لئے چھوڑئے۔
نیز ایک روایت میں ہے کہ ایک ہی برتن سے آپ مجھ سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے اور میں آپ سے ۔آپ مجھ سے فرماتے : میرے لئے چھوڑ دو اور میں آپ سے عرض
کرتی میرے لئے چھوڑئے۔
تو اسکا جواب یہ ہے کہ ان کا یہ مقصد نہیں کہ وہ جب بھی غسل کرتی تھیں تو یہ ہی کلمات ادا کرتی تھیں ۔ کیونکہ انکا قول یہ بھی ہے کہ یہ برتن انکو کافی ہو جاتا تھا ۔ اس سے زیادہ کا مطالبہ نہیں
فرماتے ۔ اور میں بھی غسل کرتے وقت ایسا ہی کرتی تھی۔ فتاوی رضویہ جدید ۱/۵۸۵
توجیہ دوم: یہا ں مد سے مراد صاع ہے ۔ تاکہ اس حدیث سے مطابقت ہو جائے ۔ جس میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع