30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علیہ وسلم نے دو تہائی مد سے وضو فرمایا۔
اس میں تو صرف یہ ہے کہ آپ کے پاس برتن میں دو تہائی مدپانی لایا گیا ۔ تو اسکا جواب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۴۵۷۔ السنن لابی داؤد ، الطہارۃ ۱/۱۳
۴۵۸۔ السنن للنسائی، الطہارۃ ۱/۲۴
۴۵۹۔ المستدرک للحاکم ، الطہارۃ ۱/۶۱
یہ ہے کہ انکی غرض اس سے صرف اس مقدار کا بیان ہے جو وضو کیلئے کافی ہے ۔ ورنہ پانی کی مقدار اوربرتن کا ذکر بے فائدہ ہو گا ۔ علاوہ ازیں انہوں نے یہ بھی ذکر نہیں کیا کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے زیادہ پانی طلب فرمایا۔ اس لئے سیاق کلام سے معلوم ہوا کہ آپنے
اسی پا نی پر اکتفاء فرمایا۔
بالجملہ وضو میں کم سے کم تہائی مد اور زیادہ سے زیادہ ایک مد کی حدیثیں آئی ہیں ۔ البتہ
ایک حدیث انکے خلاف ہے ۔ فتاوی رضویہ جدید ۱/۵۸۲
۴۶۰۔ عن ربیع بنت معوذ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قالت : وضأت رسول اللہ تعالیٰ
علیہ وسلم فی الاناء نحو من ہٰذا الااناء وہی تشیر الی رکو ۃ تاخذ مدا او ثلثا۔
حضرت ربیع بنت معوذ بن عضراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کواس برتن کی طرح کے برتن سے وضوکرایا ۔ انہوں نے چمڑے کے
ایک چھوٹے برتن کی طرف اشارہ کیا جس میں ایک مد ۔ یا ایک مد اور تہائی مد پانی آسکتا تھا ۔
]۵[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس برتن سے وضو فرمایاجس میں ایک مد ۔یا سوامد ۔ اور دوسر ی روایت میں ایک مد اور تہائی مد یا صرف ایک مد پانی تھا ۔ تو یہ مقدار مشکوک
ہے اور شک سے زیادت ثابت نہیں ہوتی۔
۴۶۱۔ عن أنس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : کان رسول اللہ صلی اللہ
تعالی علیہ وسلم یتوضأبمکوک ویغتسل بخمسۃ مکاکی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع