30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وضو ایمان کا حصہ ہے اور مسواک وضو کا ۔
]۶[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
یہ حدیث مرسل ہے ۔ ا س حدیث کا مطلب ہے ایمان بے وضو کا مل نہیں اور وضو بے
مسواک ۔ اس سے مسواک کا داخل وضو ہونا ثابت نہیں ہوتا جس طرح وضو داخل ایمان نہیں ۔ ہاں وجہ تکمیل ہونا مفہوم ہوتا ہے ۔ وہ ہر سنت کیلئے حاصل ہے ۔ قبلیہ ہو یا بعدیہ ۔ جس
طرح صبح و ظہر کی سنتیں فرضو ں کی مکمل ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
جب محقق ہوگیا کہ مسواک سنت ہے اور ہمارے علماء اسے سنت وضو مانتے ہیں ۔ اور شافعیہ کے ساتھ اپناخلاف یونہی نقل فرماتے ہیں کہ انکے نزدیک سنت نماز ہے اور ہمارے
نزدیک سنت وضو ہے ۔
اور متون مذہب قاطبہ یک زبان تصریح فرمارہے ہیں کہ مسواک سنن وضو سے ہے تو اس سے عدول کی کیا وجہ ہے ۔ سنت شی قبلیہ ہوتی ہے یا بعدیہ یا داخلہ ۔ جیسے رکوع میں تسویہ
ظہر ۔ مگر روشن بیانوں سے ثابت ہوا کہ مسواک وضو کی سنت داخلہ نہیں ۔
او روضو کرتے میں مسواک فرمانے پر مداومت در کنار اصلا ثبوت ہی نہیں ۔ اور سنت بعدیہ نہ کوئی مانتا ہے نہ اسکا محل ہے کہ مسواک سے خون نکلے تو وضو بھی جائے۔لا جرم ثابت ہو ا کہ سنت قبلیہ ہے اور یہ ہی مطلوب تھا ۔ اور خود حدیث صحیح اسکی طرف ناظر اور حدیث سنن ابی
داؤد ا س میں نص ہے ۔ فتاوی رضو یہ جدید ۱/۶۰ تا۶۱۹
فتاوی رضویہ قدیم ۱/ملخصا
(۶) مسواک سے وضو مکمل کرو
۴۴۲۔ عن جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال: قال رسول اللہ صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : اِذَا قَامَ أحَدُکُمْ یُصَلِّی مِنَ اللَّیْلِ فَلْیَسْتَکْ، فَاِنَّ أحَدَکُمْ اِذَا قَرَئَ فِی صَلٰوتِہٖ وَضَعَ مَلِکٌ فَاہُ عَلیٰ فِیْہِ وِلاَ یَخْرُجُ مِنْ فِیْہِ شَیْئٌ اِلَّادَخَلَ فَمَ الْمَلِکْ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع