30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے۔ میں نے اس پر ایک مستقل رسالہ لکھا جسکا نام ’’ التاج المکلل فی انارۃ
مدلول کان یفعل ‘‘ رکھا ۔
اقول : باللہ التوفیق ۔
اولاً : یہ معلوم ہوکہ دربارئہ مسواک کلمات علماء مختلف ہیں کہ سنت ہے یا مستحب ۔
عامۂ متون میں سنت ہونے کی تصریح فرمائی ، اور اسی پر اکثر ہیں ۔ لیکن ہدایہ اور اختیا ر
میں استحباب کو اصح اور تبیین و خیر مطلوب میں صحیح بتایا : فتح میں اسی کو حق ٹھہرایا ۔ حلیہ و بحر نے اسی کا
اتباع کیا ۔
اقول : جب تصحیح مختلف ہو تو متون پر عمل لازم ہے۔ کما نصو ا علیہ ۔ بلکہ ہمارے صاحب
مذہب کے تلمیذ جلیل ، امام الفقہاء و المحدثین امام الاولیاء عبد اللہ بن مبارک رضی اللہ تعالیٰ عنہما
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۴۳۴۔ المعجم الکبیر للطبرانی، ٭ المسند لاحمد بن حنبل، ۶/۵۸۰
۴۳۵۔ کتاب الطہور لابی عبید ،
نے فرمایا: اگر کسی بستی کے لوگ سنیت مسواک کے ترک پر اتفاق کرلیں تو ہم ان سے اس طرح جہاد کریں جیسا مرتدوں سے کرتے ہیں ۔ تاکہ لوگ اس سنت کے ترک پر جرأت نہ کریں ۔نیز احادیث متواترہ اسکی تاکید اور اس میں قولا و فعلا ا ہتمام شدید پر ناطق، جن سے کتب احادیث مملو ہیں ۔ بلکہ حضو ر پر نور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کااس پر مواظبت و مداومت گویا ضروریات وبدیہیات سے ہے ۔ ہر شخص کہ احوال قدسیہ پر مطلع ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ
علیہ وسلم کا اس پر مداومت فرمانا جانتا ہے۔
ثانیا : سنت کو مواظبت درکا ر ۔ اب ہم وضو میں کلی کے وقت احادیث کو دیکھتے ہیں تو ہرگز اس وقت مسواک پر مواظبت ثابت نہیں ہوتی۔خود امام محقق علی الاطلاق کو اسکا اعتراف ہے اور اسی بنا پر قول استحباب اختیار فرمایا۔ بلکہ مواظبت تو درکنار چوبیس صحابہ کرام رضی اللہ
تعالیٰ عنہم نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے صفت وضو قولا وفعلا نقل فرمائی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع