30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴۰۰۔ عن عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال : اذا وجد ت شیأ من البلۃ فانضحہ ما یلیہ من ثو بک بالماء ثم قل ہو من الماء قال حماد : قال لی سعید بن جبیر : انضحہ بالماء ثم اذاوجد تہ فقل ہو من الماء ، قال محمد : ولھذا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۳۹۸۔ السنن لابن ماجہ، الطہارۃ، ۱/۳۶ ٭ اتحاف السادۃ للزبیدی، ۲/۴۲۹
السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی ۲/۵۲۰ ٭
۳۹۹۔ الجامع للترمذی ، الطہارۃ، ۱/۹ ٭ السنن لابن ماجہ ، الطہارۃ، ۱/۳۶
اتحاف السادۃ للزبیدی، ۲/۴۲۹ ٭
۴۰۰۔ کتاب الآثار لمحمد ، ٭
نا خذ اذا کان کثر ذالک من الانسان وہو قول أبی حنیفۃ۔
حضرت عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ تری پاؤ تو شرمگاہ اور وہاں کے کپڑے پر چھینٹا دے لیا کرو پھر شبہ گزرے تو خیال کرو کہ پانی کااثر ہے ۔ امام حماد نے فرمایا: کہ ایسا ہی سعید بن جبیر نے مجھ سے فرمایا: امام محمد فرماتے ہیں ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں ۔جب آدمی کو شبہ زیاد ہ ہواکرے تو یہ ہی طریقہ برتے ۔ اور یہ ہی قول امام اعظم کا
ہے ۔رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔ فتاوی رضویہ ۱/۷۷۸
]۲۸[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
مگر یہاں اولا: یہ ملحوظ رہے کہ مقصو د نفی وسوسہ ہے نہ ابطال حقیقت ، تو جسے قطرہ اترنے کا یقین ہو جائے وہ پانی پر حوالہ نہیں کر سکتا ۔ یونہی جسے معاذ اللہ سلسل البول کا عارضہ ہو اسے یہ
چھینٹا مفید نہیں بلکہ بسا اوقات مضر ہے کہ پانی کی تری سے نجاست بڑھ جائے گی۔
ثانیا: سفید کپڑا پانی پڑنے سے بدن پر چپکنے سے بے حجابی لاتا ہے ۔ اس کا خیال فرض
ہے۔
ثالثا: یہ حیلہ اسی وقت تک نافع ہے کہ چھڑکا ہو اپانی خشک نہ ہو گیا ہو ۔ ورنہ اس پر حوالہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع