30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
]۱۵[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
یہ احادیث اگرچہ ضعیف ہیں مگرتعدد طرق سے انکا ضعف دورہو گیا نیز حلیہ میں فرمایا گیا کہ جب فضائل میں حدیث ضعیف بالاجماع مقبول ہے تو اباحت میں بدرجہ اولیٰ مقبول ہوگی
۔ اسکے علاوہ ایک حدیث حسن قولی بھی موجود ہے ۔
۳۷۹۔ عن أنس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ
تعالیٰ علیہ وسلم : لاَ بَأسَ بِالْمِنْدِیْلِ بَعْدَ الْوُضُوْئِ ۔
حضر ت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : وضو کے بعد رومال میںکچھ حرج نہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۳۷۷۔ الجامع للترمذی ، الطہارۃ، ۱/۹
۳۷۸۔ السنن لابن ماجہ، الطہارۃ، ۱/۳۷
۳۷۹۔ کتاب الاثار لحمد ، ۸
]۱۶[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
اما م ابو المحاسن محمد بن علی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کتاب الالمام فی آداب دخول الحمام میںاس حدیث کو روایت کرکے فرماتے ہیں ۔ ھٰذا الاسناد لابأ س بہ ، یعنی اس سندمیں کوئی حرج نہیں حلیہ میں فرمایا گیا کہ امام ترمذی نے فرمایا اس سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے کوئی چیز سندصحیح سے ثابت نہیں انکے اس قول کا یہ مطلب نہیں کہ حدیث حسن یا اسکے قریب ہی کوئی حدیث موجود نہیںاور ہمارے اس مقصدکا ثبوت حدیث صحیح پرموقوف نہیں بلکہ حدیث
صحیح کی طرح حسن سے بھی ثابت ہو جاتاہے ۔
امام اجل ابراہیم نخعی سے اس باب میں استفتاء ہو ا کہ آدمی وضو کرکے کپڑے سے منھ پونچھے فرمایا: کچھ حرج نہیں پھر فرمایا بھلا دیکھ تو اگر ٹھنڈی رات میںنہا ئے تو کیا یوںہی کھڑا رہیگا یہاںتک کہ بد ن خشک ہو جائے ۔ امام محمد نے فرمایا: ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں ہمارے نزدیک اس میں کچھ حرج نہیں اور یہ ہی امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرما ن ہے یہاںسے یہ بات بھی ظاہرہوئی کہ وضو و غسل دونوں کا ایک حکم ہے بلکہ بسا اوقات
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع