30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳۷۳۔ عن اُم المؤمنین میمونۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قالت: وضعت للنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم غسلا یغتسل بہ من الجنابۃ فأکفأ الاِناء علی یدہ الیمنی
فغسلہا مرتین او ثلاثاثم صب علیٰ فرجہ فغسل فرجہ بشمالہ ثم ضرب ید ہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۳۷۱۔ کنز العمال للمتقی، ۹/۳۲۶ ٭
۳۷۲۔ الصحیح لمسلم ، الطہارۃ، ۱/۱۴۷ ٭
۳۷۳۔ السنن لابی داؤد ، الطہارۃ، ۱/۳۲ ٭ الجامع الصحیح للبخاری ، الغسل ۱/۴۱
الارض فغسلہا ثم تمضمض واستنشق و غسل وجہہ و یدیہ ثم صب علیٰ رأسہ وجسدہ ثم تنحی ناحیۃ فغسل رجلیہ فناولتہ المندیل فلم یأخذہ وجعل ینفض الماء عن جسدہ فذکرتہ ذالک لاِبراہیم فقال کانوا لایرون بأسا بالمندیل ولکن
کانوا یکرہون العادۃ۔
ام المؤمنین حضر ت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے غسل جنابت کیلئے پانی رکھا تو حضور نے اسکو اپنے داہنے ہاتھ پر انڈیلا پھر دو مرتبہ یا تین مرتبہ اسکو دھویا پھر اپنی شرم گاہ پر پانی ڈالا اور بائیں ہاتھ سے استنجاء کیا پھر اس ہاتھ کو زمین پر رگڑا اور دھویا پھرکلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھویا پھر سر اور تمام جسم پر پانی بہایا پھر اس مقام سے جدا ہو کر اپنے دونو ں پاؤں دھوئے میں نے تولیہ پیش کی تو حضور نے اسکو نہیں لیا اور اپنے جسم اطہر سے پانی پوچھنے لگے راوی کہتے ہیں میں نے اس کا تذکرہ حضرت ابراہیم سے کیا توآپ نے فرمایا: تولیہ سے پوچھنے میں صحابہ کرام کوئی
حرج نہیںجانتے تھے البتہ عادت بنانانا پسند فرماتے ۔۱۲م
]۱۲[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
ان روایات سے واضح طور پر معلوم ہو ا کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے وضو و
غسل کے بعداعضا سے پانی پونچھا ہے اکثراوقات کپڑے سے اور بعض اوقات ہاتھوں سے لیکن پونچھنا دونوں صورتوں میں پایا گیا لہٰذا احادیث مذکو رہ میں تاویلا ت کی چنداں ضرورت
نہیں بلکہ وہ تاویلات باطل ہیں ۔
۳۷۴۔عن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما أنہ کرہ أن یمسح بالمندیل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع