30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہ کر سکے گا جیسے اس پانی کو استعمال نہیںکرتاہے جس میں کتا یا بلی مرگئی ہو ۔ میں نے ان سے کہا اس سے معلوم ہوا کہ ابو حنیفہ او ر ابو یوسف اہل کشف سے تھے کیونکہ یہ مستعمل کی نجاست کے قائل تھے ۔ تو انہوںنے کہا جی ہاں ۔ ابو حنیفہ اور انکے صاحب بڑے اہل کشف سے تھے ۔ جب وہ اس پانی کو دیکھتے جس کو لوگو ں نے وضو میں استعمال کیاہوتا تو وہ پانی میں گرتے ہوئے گناہوں کو پہچان لیتے تھے ۔ اور کبائر کے دھوون کو صغائرکے دھوون سے الگ اورممتاز کر سکتے تھے ۔ اور صغائر کے دھوون کومکروہات سے مکروہات کے دھوون کو خلا ف اولی سے ممتازکر سکتے تھے ،اسی
طرح جیسے محسوس اشیا ء ایک دوسرے سے الگ ممتازہو ا کرتی ہیں ۔
پھر فرمایا:ہمیں یہ روایت پہونچی ہے کہ ایک مرتبہ آپ جامع کوفہ کے طہارت خانہ میں داخل ہوئے ۔ تو دیکھا کہ ایک جوان وضوکررہا ہے اورپانی کے قطرات اس سے ٹپک رہے ہیں ۔ تو فرمایا : اے میرے بیٹے! والدین کی نافرمانی سے توبہ کر اس نے فورا کہا :میں نے توبہ کی ۔ایک دوسرے شخص کے پانی کے قطرات دیکھے تو فرمایا : اے میرے بھائی زناسے توبہ کر ۔ اس نے کہا میں نے توبہ کی ۔ ایک اور شخص کے وضو کا پانی گرتا ہوا دیکھا تو اس سے فرمایا : شراب نوشی
اور فحش گانے بجانے سے توبہ کر اس نے کہا میں نے توبہ کی ۔
اسی میں حضرت امام ابو حنیفہ کے بعض مقلدین سے مروی ہے کہ انہوں نے ان وضو خانوں کے پانی سے وضو کومنع کیا ہے جن میں پانی جاری نہ ہو ۔ کیونکہ اس میں وضو کرنے والوں
کے گناہ بہتے ہیں۔ اور انہوں نے حکم دیا کہ وہ نہروں ، کوؤں اور بڑیحوضو ںکے پانی سے وضو کریں ۔
سید علی الخواص باوجود شافعی المذہب ہونے کے مساجد کے طہارت خانوں میں اکثر اوقات وضو نہیں کرتے تھے او ر فرماتے تھے کہ یہ پانی ہم جیسے لوگوں کے جسموں کو صاف نہیں کرتا
ہے ۔ کیونکہ یہ ان گناہوں سے آلودہ ہے جو اس میں مل گئے ہیں ۔ اور وہ گناہوں کے دھوون
میں یہ فرق بھی کر لیتے تھے کہ یہ حرام کا ہے یا مکروہ کا یا خلاف اولیٰ کا ۔
ایک دن میں انکے ساتھ مدرسۃ الازہر کے وضو خانہ میں گیا تو انہوںنے ارادہ کیا کہ حوض سے استنجا ء کریں ۔ تو اس کو دیکھکر لوٹ آئے ۔ میںنے دریافت کیا کیوں؟۔ فرمایا : کہ میں نے اس میںایک گناہ کبیرہ کا دھوون دیکھا ہے جس نے اسکو متغیر کر دیا ہے ۔ میں نے اس شخص کو بھی دیکھا تھا جو حضر ت شیخ سے قبل وضو خانے میں داخل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع