30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اعلم ۔
او ر اللہ تعالیٰ ابو حاتم پر رحم فرمائے ۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم حدیث کو اس وقت
تک نہیں پہچانتے تھے جب تک کہ اسکو ساٹھ وجوہ سے نہ لکھ لیتے تھے ۔ اور مجھے معلو م ہے کہ واقعات کی روایات میں طریقہ یہ ہے کہ اعم اخص پر محمول کیاجا تا ہے ۔ لیکن تصحیح کیلئے اسکے بر عکس
میں بھی کوئی تعجب نہیں ۔ فتاوی رضویہ جدید ۱/۶۴۵
۳۵۸۔ عن أبی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: اِن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ
وسلم توضأ غرفۃ غرفۃ فقال: لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ صَلوٰۃً اِلَّا بہٖ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک ایک چلو سے وضو فرمایا۔ اور فرمایا یہ وضو ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وضو کے بغیر نماز قبو ل
نہیں فرماتا ۔
۳۵۹۔ عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال: توضأ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم واحدۃ فقال: ہٰذَا وُضُوْئٌ مَنْ لاَ یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہٗ صَلوٰ ۃً اِلَّا بہٖ ثُمَّ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۳۵۸۔ کنز العمال للمتقی، ۲۶۸۳۱، ٭ تاریخ بغداد للخطیب، ۳/۳۵۷
۳۵۹۔ السنن لابن ماجہ، الطہارۃ، ۱/۳۴ ٭
توضأ ثنتین ثنتین فقال: ھٰذَا وُضُوئُ الْقَدْرِ مِنَ الْوُضُوئِ ،وتوضأ ثلاثا ثلاثا و قال: ھٰذَا أسْبَغُ الْوُضُوْئِ وَہُوَ وَضُوئِی وَوُضُو ئُ خَلِیْلِ اللّٰہِ اِبْرَاہِیْمَ وَ مَنْ تَوَضَّأ ہٰکَذَا ثُمَّ قَالَ عِنْدَ فَرَاغِہٖ ، أشْہَدُ أنْ لاَّ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ أشْہَدُ أنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ فُتِحَ لہٗ ثَمَانِیَۃُ
أبْوَابِ الْجَنَّۃِ یَدْ خُلُ مِنْ أیِّہَا شَائَ۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک ایک مرتبہ اعضا ء دھو کر ارشاد فرمایا : یہ ایسا وضو ہے کہ اسکے بغیر اللہ تعالیٰ نماز قبول نہیں فرماتا ۔ پھر دو مرتبہ اعضاء دھوئے اور فرمایا: یہ وضو کی درمیانی مقدار ہے ۔ پھر تین تین مرتبہ اعضاء دھوئے اور فرمایا : یہ کا مل واکمل وضو ہے ۔ اور فرمایا : یہ وضو میرا اور اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم علی نبینا و علیہ الصلوۃ والتسلیم کا ہے ۔تو جس نے اسطرح وضو کیا اور وضو سے فارغ ہو کر کلمہ شہادت پڑھا اسکے لئے جنت کے آٹھوں دروازے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع