30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳۴۴۔الجامع للترمذی الطہارۃ، ۱/۲۰ ٭ المسند لاحمد بن حنبل، ۱/۲۲۰
کنز العمال للمتقی، ۴۴۸۹۹، ۱۶/۳۵۴ ٭
۳۴۵۔المعجم الکبییر للطبرانی، ۱۱/۰۲ ٭ المستدرک للحاکم ، الطہارۃ، ۱/۱۷۲
الجامع الصغیر للسیوطی، ۲/۵۰۶ ٭
۳۴۶۔ المسند لاحمد بن حنبل، ۱/۳۶۳
اکتفا کرے ۔ ۱۲م
۳۴۷۔ عن عبد الحمید بن زید بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: کان لعمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اِمرأۃ تکرہ الجماع فکان اذا أراد أن یا تیہااعتلت علیہ با لحیض فوقع علیہا فاذا ہی صادقۃ فأتی النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
فأمرہ أن یتصدق بخمس دینار۔
حضرت عبد الحمید بن زید بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک بیوی تھیں جو جما ع کو پسند نہیں کرتی تھیں۔ چنانچہ جب بھی حضرت عمر جماع کا ارادہ کرتے تو وہ حیض کا بہانہ کرکے چھٹ جاتیں ۔ ایک دن انہوں نے مجامعت کر ہی لی تو وہ سچی ثابت ہوئیں ۔ یہ حضور کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ۔ حضور
اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دینا ر کا پانچواں حصہ صدقہ کرنے کا حکم فرمایا ۔ ۱۲م
]۳[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
حاصل جمع حدیث یہ ٹھہرا کہ جس سے نا دانستہ ایسا واقع ہوا اگر آخر حیض میں تھا اور اسی میں حکما ًوہ صورت داخل کہ خون دس دن سے کم میں منقطع ہوا اور عورت نے ابھی غسل نہ کیا نہ اس پر کوئی نماز دین ہوئی تو وہ ایک خمس دینار کفارہ دے ۔ اور اگر شباب حیض میں تھا تو دو خمس ۔ اور جس نے دانستہ ایسا کیا اگر آخر حیض میں تھا نصف دینار دے اور اول میں تھا تو ایک دینار دے ۔ ہاں ایک کی طاقت نہ ہو تو نصف ہی دے ۔ یہ سب حکم استحبابی ہے ۔ واجب نہیں مگر
استغفار ۔یہ سب دربارئہ حیض تھا اور اس پر نفاس واضح القیاس ۔ فتاوی رضویہ ۲/۲۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع