30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرمایا اور متعد د احا دیث میں اس سے نہی و
مما نعت آئی تو واجب کہ ممنوع ہو ، اور انہیں احادیث کو ان پر ترجیح بوجوہ ہو ۔
اولا ۔ وہ ایک بار کا واقعئہ حال ہے کہ صد گونۂ احتمال ہے ۔
ثانیا۔ فعل وقول میں جب تعارض ہو تو قول واجب العمل ہے کہ فعل احتما ل خصوصی
وغیرہ رکھتا ہے ۔
ثالثا۔ مببیح وحاظر جب متعا رض ہوں حاظر مقدم ہے ۔
ثم اقول :نفس حدیث حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان مقلدان نصرانیت پر رد ہے۔ وہاں کافی بلندی تھی اور نیچے ڈھال ،اور زمین گھو رے کے سبب نرم کہ کسی طرح چھینٹ آنے کا احتما ل نہ تھا ، سامنے دیوار تھی اور گھورا فنائے دار میں تھا نہ کہ گذر گاہ پر - پس پشت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کھڑا کرلیا تھا ۔ اس طرف کا بھی پردہ فرمایا کہ اس حالت میںپشت اقدس پر بھی نظر پڑنا پسند نہ آیا ، ان احتیا طوں کے ساتھ تمام عمر مبا رک میں ایک با ر ایسامنقول ہو ا۔کیا یہ نئی روشنی کے مدعی ایسی ہی صورت کے قائل ہیں سبحا ن اللہ کہاں یہ اور کہاں ان بے ادبوں کے نا مہذّب افعال ، اور ان پر معاذاللہ حدیث سے استدلال ۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔
کار پا کاں را قیاس از خود مگیرد،
(پاک لوگوں کے کام کو اپنے اوپر قیا س نہ کرو )
او گماں بردہ کہ من کردم چو او ٭ فرق را کہ بیند آں استیزہ جو
اس نے گمان کیا کہ میں نے اس جیسا عمل کیا ، وہ لڑائی ڈ ھونڈھنے والا فرق کب دیکھ سکتا
ہے ۔واللہ سبحا ن اللہ تعالیٰ اعلم ۔
فتاوی رضویہ جدید ۴/ ۵۹۰تا ۵۹۷ ملخصا
فتا ویٰ رضویہ قدیم ۲/ ۱۴۸تا۱۵۱ملخصا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع