30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طہارت حاصل ہوگئی ۔ یوں ہی بے غسل دئیے اسپر نماز جنازہ جائز ہے ۔ اور خاص غسل میّت کی نیت تو احیاء پر بھی ضرو ری نہیں ، اپنا قصدی فعل کافی ہے ۔یہی اس مسئلے میں توفیق و تحقیق ہے-اس لیئے
ہم نے (مکلّف پر جس عضو کا دھونا واجب )کہا نہ مکلّف کا عضو کہ میّت مکلّف نہیں ۔
فائدہ ۳ ۔ عورت ابھی حیض یا نفاس میں ہے خون منقطع نہ ہوا اس حا لت میں اگر اسکا ہاتھ یا کوئی عضو پانی میں پڑ جائے مستعمل نہ ہوگا کہ ہنوز اس پر غسل کا حکم نہیں اس لیئے ہم
نے بالفعل کی قید ذکر کی ۔
فائدہ۴۔جس عضو کا جہاں تک پانی میں ڈالنا بضرورت ہو اتنا معاف ہے ۔ پانی کو
مستعمل نہ کریگا ۔مثلا
(۱) پانی لگن یا چھوٹے حوض میں ہے کہ دہ دردہ نہیں اور کوئی برتن نہیں جس سے نکال کر وضو
کرے تو چلّو لینے کے لیئے اس میں ہاتھ ڈالنے سے مستعمل نہ ہوگا۔
(۲) اسی صورت میں اگر ہاتھ مثلا کہنی یا نصف کلائی ڈال کر چلّو لیا یعنی جس قدر کے ادخال
کے چلّو میں حاجت نہ تھی ، مستعمل ہو جائیگا کہ زیادت بے ضرورت واقع ہوئی۔
(۳) کونی یامٹکے میں کٹورا ڈوب گیا اس کے نکالنے کو جتنا ہاتھ ڈالنا ہوگا مستعمل نہ کریگا اگر
چہ بازو تک ہو کہ ضرورت ہے ۔
( ۴) برتن میں پاؤں پڑ گیاپانی مستعمل ہو گیا کہ اسکی ضرورت نہ تھی۔
(۵) کوئیںیا حوض میں ٹھنڈ لینے کے لئے غوطہ ما را یا صرف ہاتھ پاؤں ڈالا مستعمل ہو گیا
کہ ضرورت نہیں ہے ۔
(۶) برتن یا حوض میں ہاتھ ڈالا تو تھا چلّو لینے کے لئے پھر اسمیں ہاتھ دھونے کی نیّت کر لی
مستعمل ہوگیا کہ حوض میں دھونا بضرورت نہ تھا صرف چلّو لینے کی حاجت تھی ۔
(۷) کو ئیں سے ڈول نکالنے گھسا اوروہاں غسل یا وضو کی نیّت کر لی بالتفاق مستعمل ہو گیا ، اگر چہ امام محمّد نے ڈول نکالنے کے لئے اجازت دی تھی کہ قصد طہارت کی ضرورت نہ تھی،
وقس علیہ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع