30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کان یغتسل بفضل میمو نۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے غسل کے بچے ہوئے پانی سے
غسل فرماتے ۔
]۳[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ نہ تو پہلی حدیث میں نہی تحریمی ہے اور نہ دوسری حدیث ناسخ
بلکہ نہی صرف نہی تنزیہی ہے اور فعل بیان جواز کے لئے ہے ۔
ملا علی قاری نے بھی مرقات میں سیّد جمال الدین حنفی سے یہی نقل کیا ہے اور لمعات التنقیح میں محدث عبد الحق دھلوی نے بھی یہی جواب دیا ہے کہ نہی تنزیہی ہے، تحریمی نہیں ۔ تو دونوں میں کوئی منافات نہیں ۔ اس سے پہلے باب میں فرمایا : ایک جوا ب یہ دیا گیا ہے کہ و ہ عزیمت تھی اور یہ رخصت ہے ۔ اشعتہ اللمعات میں اسی پر جزم کیا ہے ۔عینی عمدۃ القا ری میں فرمایا ہے ۔ عو رت کے بچے ہوئے پانی سے امام شافعی کے نزدیک مرد کے لئے وضو جائز ہے خواہ اس عورت نے اس پانی کو خلوت میں استعمال کیا ہو یا نہیں ۔ بغوی وغیرہ نے فرمایا: اس میں
کراہت نہیںکہ صحیح احادیث اس بارے میں موجود ہیں ۔
یہی قول مالک، ابو حنیفہ اور جمہور کا ہے ۔ ملخصا
فتاویٰ رضویہ جدید ۲/ ۴۶۹، ۴۷۰ ،۴۷۱
فتاویٰ رضویہ قدیم ۱/ ۴۱۲،،۴۱۳
(۵)جنبی اور حائضہ سے متعلق پانی کے احکام
۳۱۴۔ عن الحسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : فی الجنب یدخل یدہ فی الاِناء قبل أن یغسلہا أو الرجل یقو م من منامہ فید خل یدہ فی الاِناء قبل أن یغسلہا قال
اِن شاء تؤ ضا واِن شاء أھرقہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع