30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲۵۶۔
۲۵۷۔ الجامع الصحیح للبخاری ، الا عتصام ، ۲/ ۱۰۸۲ ٭ الصحیح لمسلم ، الحج، ۱/۴۳۲
السنن لا بن ماجۃ ، المقد مہ ، ۱/ ۲ ٭ الجامع للترمذی ، العلم ، ۲/ ۹۳
المسند لا حمد بن حنبل، ۲/ ۲۴۷ ٭ السنن الکبری للبیہقی ، ۱/ ۳۸۸
التمہید لا بن عبد البر ، ۱/ ۱۴۸ ٭ مجمع الزوائد للہیثمی ، ۱/ ۱۵۸
اتحاف السادہ للزبیدی ، ۲/ ۵۰ ٭ الدر المنثور ، ۲/ ۳۳۵
۲۵۸۔الجامع الصحیح للبخاری ، الاعتصام ، ۲/ ۱۰۸۲ ٭ الصحیح لمسلم ، الفضا ئل،۲/ ۲۶۲
السنن لا بی داؤد ، االسنۃ ، ۲/ ۲۳۶ ٭ المسند لاحمد بن حنبل ، ۱/ ۱۷۶
المستدرک للحاکم، ۳/ ۶۲۶ ٭ التفسیر للقرطبی ، ۶/ ۳۳۵
مشکل الا ثار للطحاوی، ۲۰/ ٭ فتح الباری للعسقلانی، ۱/ ۲۶۴
لَمْ یُحَرِّمْ عَلیَ النَّاسِ فَحُرِّمَ مِنْ رَجُلٍ مَسْألَتِہٖ۔
حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک مسلما نوں کے بارے میں انکا بڑاگنہگار وہ ہے جو ایسی چیز سے
سوال کرے کہ حرام نہ تھی ،اس کے سوال کے بعد حرام کر دی گئی ۔
]۵[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
یہ احادیث با علی ندا منا دی کہ قرآن وحدیث میں جن با توں کا ذکر نہیں،نہ انکی
اجازت ثابت ،نہ مما نعت وار د، وہ اصل جواز پر ہیں ،ورنہ اگر جس چیز کا کتاب و سنّت میں ذکر نہ ہو مطلقًا ممنوع ونا درست ٹہرے تو اس سوال کر نیوالے کی کیا خطا ؟اسکے بغیر پو چھے بھی وہ چیز ناجا ئز ہی رہتی ،بالجملہ یہ قاعدۂ نفیسہ ہمیشہ یاد رکھنے کا ہے کہ قر آن وحدیث سے جس چیز کی بھلائی یابرائی ثابت ہووہ بھلی یا بری ہے ، اور جس کی نسبت کوئی ثبوت نہ ہو وہ معا ف وجائز
ومباح و روا ،اس کو حرام وگناہ ونا درست وممنوع کہنا شریعت پر افتراء ہے ۔
فتا ویٰ رضویہ ۳/۵۲۷،۵۵۲
(۰ ۱) زیادہ قیل وقال سے بچو
۲۵۹ ۔عن المغیرۃ بن شعبۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال صلی اللہ تعالی
علیہ وسلم : اِنَّ اللّٰہَ کَرِہَ لَکُمْ قِیْلَ وَقَالَ،وَکَثُرَۃُ السُّؤَالِ وَاِضَاعَۃُ الْمَالِ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع