30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
]۳[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
یعنی بآں کہ سب کچھ تقدیر سے ہے پھر آدمی خشک جنگل چھوڑ کر ہرا بھرا چرائی کیلئے اختیار کرتا ہے ۔ اس سے تقدیر الہی سے بچنا لازم نہیں آتا ۔ یونہی ہمارا اس زمین میں نہ جانا جس میں وبا پھیلی ہے ۔ یہ بھی تقدیر سے فرار نہیں ۔پس ثابت ہوا کہ تدبیر ہرگز منافی توکل نہیں بلکہ
صلاح نیت کے ساتھ عین توکل ہے ۔
ہا ں بیشک یہ ممنوع و مذمو م ہے کہ آدمی ہمہ تن تدبیرمیں منہمک ہو جائے اور اسکی درستی میں جاو بے جا، نیک و بد ، حلال وحرام کا خیال نہ رکھے ۔ یہ بات بیشک اسی سے صادر ہوگی جو تقدیر کو بھول کر تدبیر پر اعتماد کر بیٹھا، شیطان اسے ابھارتا ہے کہ اگر یہ بن پڑی جب تو کار برآری ہے ورنہ مایوسی و ناکامی ، ناچار سب این و آں سے غافل ہو کر اسکی تحصیل میں لہو پانی کر دیتا ہے ۔ اور ذلت و خواری، خوشامد و چاپلوسی ، مکر و دغا بازی جس طرح بن پڑے اسکی راہ لیتا ہے حالانکہ اس حرص سے کچھ نہ ہوگا ۔ ہونا وہی ہے جو قسمت میں لکھا ہے ۔ اگر یہ علو ہمت ،صدق نیت، پاس عزت ،اور لحاظ شریعت ہاتھ سے نہ دیتا رزق کو اللہ عزوجل نے اپنے ذمہ لیا جب بھی پہونچتا ۔ اسکی طمع نے آپ اسکے پائوں میں تیشہ مارا اور حرص و گناہ کی شامت نے خسرا لد نیا
و الآخرۃ کا مصداق بنایا ۔ اور اگر بالفرض آبرو کھو کر گنہگار ہو کر دو پیسہ پائے بھی تو ایسے مال پر ہزار تف ، بئس المطاعم حین الذل تکسبہا ÷ القدر منتصب و القدر مخفوض
بری خوراک ہے وہ جسے ذلت کی حالت میں حاصل کرو ۔اور اس کہاوت کی مصداق
کہ ’’ہانڈی تو چڑھ گئی لیکن عزت گھٹ گئی‘‘ فتاوی رضویہ ۱۱/۱۸۴
(۷) تقدیر کا منکر ملعون ہے
۱۳۸۔ عن اُم المؤمنین عائشۃ الصدیقۃ رضی اللہ تعالی عنہا قالت : قال
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : سِتَّۃٌ لَعَنْتُہُمْ وَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ وَ کُلُّ نَبِیٍّ مُجَابٌ، ألزَّائِدُ فِی کِتَابِ اللّٰہِ ، وَ الْمُکَذِّبُ بِقَدْرِ اللّٰہِ ،وَ الْمُتَسَلِّطُ بِالْجَبْرُوْتِ فَیُعِزُّ بِذٰلِکَ مَنْ أذَلَّ اللّٰہُ وَ یُذِلُّ مَنْ أعَزَّ اللّٰہُ، وَ الْمُسْتَحِلُّ لِحَرَمِ اللّٰہِ ، وَ الْمُسْتَحِلُّ مِنْ
عِتْرَتِی مَا حَرَّمَ اللّٰہُ ، وَ التَّارِکُ لِسُنَّتِی ۔ شمائم العنبر ص ۱۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع