30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے تجھ پر پوشیدہ ہے اسے نہ کھول ۔ عرض کی : یاامیر المؤمنین ! مجھے خبر دیجئے ، فرمایا :
ان اللہ خلقک کما شاء او کما شئت ۔ اللہ نے تجھے جیسا اس نے چاہا بنایا ،یا جیسا تونے چاہا ؟ عرض کی: جیسا ا س نے چاہا،فرمایا :
فیستعملک کما شاء او کما شئت ، تو تجھ سے کام ویسا لے گا جیسا کہ وہ چاہے ،
یا جیسا تو چاہے؟ عرض کی : جیسا وہ چاہے،فرمایا:
فیبعثک یوم القیامۃ کما شاء او کما شئت؟ تجھے قیامت کے دن جس طرح وہ
چاہے اٹھائے گا ،یا جس طرح تو چاہے؟ کہا جس طرح وہ چاہے،فرمایا :
ایہا السائل! تقول : لاحول ولا قوۃ الابمن۔اے سائل !تو کہتاہے: کہ نہ طاقت ہے نہ قوت ہے مگر کس کی ذات سے ؟ کہا : اللہ علی عظیم کی ذات سے ، فرمایا : تو اس کی تفسیر
جانتا ہے ؟ عرض کی : امیر المؤمنین کو جو علم اللہ نے دیا ہے اس سے مجھے تعلیم فرمائیں ،فرمایا :
ان تفسیرہا لا یقدر علی طاعۃ اللہ و لایکون قوۃ معصیۃ اللہ فی الامرین جمیعا الاباللہ ۔اسکی تفسیر یہ ہے کہ نہ طاعت کی طاقت ، نہ معصیت کی قوت،دونوں اللہ ہی
کے دئے سے ہیں ۔ پھر فرمایا :
ایہا السائل! الک مع اللہ مشیۃ او دون اللہ مشیۃ ؟ فان قلت ان لک دون اللہ مشیۃ ،فقد اکتفیت بہا عن مشیۃ اللہ و ان زعمت ان لک فوق اللہ مشیئۃ فقد
ادعیت مع اللہ شرکا فی مشیتہ۔
اے سائل !تجھے خدا کے ساتھ اپنے کام کا اختیا ر ہے یا، بے خدا کے؟اگر تو کہے کہ بے خدا کے تجھے اختیا ر حاصل ہے ،تو تونے ارادئہ الہیہ کی کچھ حاجت نہ رکھی جو چاہے خود اپنے ارادے سے کریگا ، خدا چاہے یانہ چاہے ۔ اور یہ سمجھے کہ خدا سے اوپر تجھے اختیار حاصل ہے ،توتو نے اللہ کے ارادے میں اپنے شریک ہونے کا دعوی کیا ۔ پھر فرمایا : ایہا السائل!ان اللہ
یشج ویداوی ،فمنہ الداء و منہ الدواء ،اعقلت عن اللہ امرہ۔
اے سائل !بے شک اللہ زخم پہونچاتا ہے اور اللہ ہی دوا دیتا ہے ۔ تو اسی سے مرض ہے اور اسی سے دوا ۔ کیوں تو نے اب تو اللہ کا حکم سمجھ لیا ،اس نے عرض کی : ہاں، حاضرین سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع