30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
]۱[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
پس یہ ہی عقیدئہ اہل سنت ہے کہ انسان پتھر کی طرح مجبور محض ہے نہ خودمختار، بلکہ ان دونوں کے بیچ میں ایک حالت ہے ۔جس کی کنہ راز خدا اور ایک نہایت عمیق دریا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی بیشمار رضائیں امیر المؤمنین مولی علی پر نازل ہوں کہ دونوں الجھنوں کو دو فقروں میں صاف فرما دیا۔ایک صاحب نے اسی بارے میں سوال کیا کہ کیا معاصی بھی بے ارادئہ الہیہ واقع نہیں ہوتے؟ فرمایا : تو کیا زبردستی کوئی اسکی معصیت کریگا ۔افیعصی قہراً۔ یعنی وہ نہ چاہتا تھا کہ اس سے گناہ ہو مگر اس نے کر ہی لیا ۔ تو اسکا ارادہ زبردست پڑا۔ معاذاللہ ،خدا بھی دنیا کے مجازی بادشاہوں کی طرح ہوا کہ ڈاکوئوں ،چوروں کا بھتیرا بندوبست کرے پھر بھی ڈاکو اور چور اپنا کام کر ہی گزرتے ہیں ۔حاشا! وہ ملک الملوک بادشاہ حقیقی ہر گز ایسا نہیں کہ بے اسکے حکم اسکی ملک میں ایک ذرہ جنبش کر سکے ۔ وہ صاحب کہتے ہیں:فکا نما القمنی حجرا ،مولی علی نے
یہ جواب دیکر گویا میرے منہ میں پتھر رکھ دیا کہ آگے کچھ کہتے بن ہی نہ پڑ ا۔
عمر بن عبید معتزلی کہ بندے کے افعال خدا کے ارادے سے نہ جانتا تھا، خود کہتا ہے : کہ مجھے ایسا الزام کسی نے نہ دیا جیسا ایک مجوسی نے دیا جو میرے ساتھ جہاز میں تھا ۔ میں نے کہا :تو مسلما ن کیوں نہیں ہوتا ؟ کہا: خدا نہیں چاہتا ، میں نے کہا : خدا تو چاہتا ہے، مگر تجھے شیطان نہیں چھوڑتے ۔کہا: تو میں شریک غالب کے ساتھ ہوں ، اسی ناپاک شناعت کے رد کی طرف مولی علی نے اشارہ فرمایا، کہ وہ نہ چاہے تو کیا کوئی زبردستی اسکی معصیت کرے گا ؟ باقی رہا اس مجوسی کا عذر ،وہ بعینہ ایسا کہ کوئی بھوکا ہے ،بھوک سے دم نکلا جاتا ہے،کھانا سامنے رکھا ہے اور نہیں کھاتا ،کہ خدا کا ارادہ نہیں ، اس کا ارادہ ہوتا تو میں ضرور کھا لیتا ۔اس احمق سے یہ ہی کہا جائے گا کہ خدا کا ارادہ نہ ہونا تونے کاہے سے جانا ؟ اسی سے کہ تو نہیںکھاتا ،تو کھانے کا قصد تو کر ،دیکھ تو ارادئہ الہیہ سے کھانا ہو جائیگا۔ ایسی اوندھی مت اسی کو آتی ہے جس پر موت سوار ہے
غرض مولی علی نے یہ تو اسکا فیصلہ فرمایا کہ جو کچھ ہوتا ہے بے ارادہ الہیہ نہیں ہو سکتا۔
فتاوی رضویہ ۱۱/۱۹۷
(۴) سزا و رجزا کیوں
۱۳۴۔ عن محمد الباقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قیل لعلی بن أبی طالب کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم:اِن
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع