30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تواضع کرنی پڑے گی علا ج کی نامور ی سے کافر کی شان بڑھیگی خصوصا اگر مریض رئیس تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے انکی تحقیر کا حکم دیا اور یہ اسکا عکس ہے ۔ پھر ان سب وجوہ کے ساتھ یہ ہے کہ اس سے انکے ساتھ انس اور کچھ محبت پیدا ہوجاتی ہے اگر چہ تھوڑی ہی سہی ،سوا اسکے
جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے اور وہ بہت کم ہیں ۔ اور کافر سے انس اہل دین کی شا ن نہیں ۔
ان امام ناصح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ان نفیس بیانوں کے بعد زیادت کی حاجت نہیں
اور بالخصوص علما ء و عظمائے دین کیلئے زیادہ خطر کا مؤید ۔
امام مارزی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا واقعہ ہے ،علیل ہوئے ،ایک یہودی معالج تھا، اچھے ہوجاتے پھر مرض عود کرتا کئی بار یونہی ہوا ۔ آ خر اسے تنہائی میں بلا کر دریافت فرمایا۔ اس نے کہا :اگر آپ سچ پوچھتے ہیں تو ہمارے نزدیک اس سے زیاد ہ کوئی کار ثواب نہیں کہ آپ جیسے امام کو مسلمانوں کے ہاتھ سے کھو دیں۔ امام نے اسے دفع فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ نے شفا بخشی۔ پھر امام نے طب کی طرف توجہ فرمائی ۔ اس میں تصانیف کیں اور طلبہ کو حاذق اطباء کردیا ۔ مسلمانوںکو ممانعت فرمادی کہ کافر طبیب سے کبھی علاج نہ کرائیں ۔یہود کے مثل مشرکین ہیں کہ قرآن عظیم نے دونوں کو ایک ساتھ مسلمانوں کا سب سے سخت تر دشمن بتایا۔ اور لا یألونکم خبالا تو عام
کفار کیلئے فرمایا ۔
فتاوی رضویہ حصہ دوم ۹/۲۹۲
(۱۱) ذمی کافر سے برتائو میں نرمی کرو
۱۰۹۔ عن الصحابۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہم عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال: ألاَمَنْ ظَلَمَ مُعَاہِدًا اَوِ انْتَقَصَہٗ اَوْ کَلَّفَہٗ فَوْقَ طَاقَتِہٖ وَ أخَذَ مِنْہٗ شَیْئًا بِغَیْرِ
طِیْبِ نِفْسٍ فَانَا حَجِیْجَۃٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ اراء ۃ الادب ص ۵
صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خبردار جس نے ذمی کافر پر ظلم کیا ، نقصان پہونچایا ، طاقت سے زیادہ
کام لیا یا بغیر رضا اس کا تھوڑا سا بھی مال لیا کل قیامت میں اس سے میں جھگڑا کرونگا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع