30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سکتے ہیں ایسی جیسے سدھائے ہوئے مسخر کتے سے شکار میں ۔
امام سرخسی نے شرح جامع صغیر میں فرمایا۔
و الاستعانۃ باہل الذمۃ کالاستعانۃ بالکلاب۔
اور بروایت اما م طحاوی ہمارے ائمہ مذہب اما اعظم و صاحبین وغیرہم رضی
اللہ تعالی عنہم نے اس میں بھی کتابی کی تخصیص فرمائی مشرک سے استعانت مطلقا ناجائز
رکھی اگر چہ ذمی ہو ۔ ان مباحث کی تفصیل جلیل المحجۃ المؤتمنہ میں ملاحظہ ہو ۔
رہا کافر طبیب سے علاج کرانا خارجی یا ظاہر مکشوف علاج جس میں اسکی بد خواہی نہ چل سکے وہ تو لاَ یَالُونَکُمْ خَبَالًا ، سے بالکل بے علاقہ ہے ۔ اور دنیاوی معاملات بیع و شراء ، اجارہ و استجارہ کی مثل ہے ۔ ہاں اندرونی علاج جس میں اسکے فریب کو گنجائش ہو ۔ اس میںاگرکافر وں پر یوں اعتماد کیا کہ انکو اپنی مصیبت میں ہمدرد ،اپنا ولی خیرخواہ اپنا مخلص بااخلاص، خلوص کے ساتھ ہمدردی کر کے اپناو لی دوست بنانے والا اور اسکی بے کسی میں اسکی طرف اتحاد کا ہاتھ بڑھانے والا جانا تو بیشک آیت کریمہ کا مخالف ہے ،اور ارشاد آیت جان کر ایسا سمجھا تو نہ صرف اپنی جان بلکہ جا ن و ایمان و قرآن سب کا دشمن ۔اور انہیں اسکی خبر ہوجائے اور اسکے بعد واقعی دل سے اسکی خیر خواہی کریں تو کچھ بعید نہیں کہ وہ تو مسلمان کے دشمن ہیں اور یہ مسلمان ہی
نہ رہا ۔فانہ منہم ، ہوگیا ، انکی تو دلی تمنا یہی تھی۔
اللہ تعالیٰ کا ارشا د ہے ۔
وَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ کَمَا کَفَرُوْا فَتَکُوْنُوْنَ سَوَائً ۔
انکی آرزو ہے کہ کسی طرح تم بھی انکی طرح کافر بنوتو تم اور وہ ایک ہو جائو ۔ مگر الحمد للہ کوئی مسلمان آیت کریمہ پر مطلع ہو کر ہرگز ایسا نہ جا نے گا ۔ اور جانے تو آپ ہی ا س نے تکذیب قرآن کی ۔بلکہ یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ ان کا پیشہ ہے ۔ اس سے روٹیاں کماتے ہیں ۔ ایسا کریں تو بد نام ہوں ،دوکان پھیکی پڑے، کھل جائے تو حکومت کا مواخذہ ہو، سزاہو، یوں بد خواہی سے باز رہتے ہیں ۔ تو اپنے خیر خواہ ہیں نہ کہ ہمارے۔اس میں تکذیب نہ ہوئی ،پھر بھی خلاف احتیاط و شنیع ضرور ہے ۔ خصوصا یہود و مشرکین سے، خصوصا سربر آوردہ مسلمان کو ، جس کے کم ہونے میں و ہ اشقیاء اپنی فتح سمجھیں ،و ہ جسے جان و ایمان دونوں عزیز ہیں اسکے بار ے
میں آیت کریمہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع