30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دلیل بتایا کہ غیر مسلم کو مذہبی و دینی امور کیلئے رازدار بنانا جائز نہیں ۔
]۸[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
کفارو غیر مسلمین سے جملہ انواع معاملت ناجائئز نہیں ۔ مثلا بیع و شرائ، اجارہ و استجارہ وغیرہ میں کیا رازدار بنانا یا اسکی خیر خواہی پر اعتماد کرنا ہے ۔ جیسے چمار کو دام دئے جوتا گٹھوالیا ، بھنگی کو مہینہ دیا پا خانہ کموالیا ،بزاز کو روپئے دئے کپڑا مول لے لیا ، آپ تاجر ہیں کوئی
چیزاسکے ہاتھ بیچی دام لے لئے وغیرہ وغیرہ ۔
ہر کافر حربی محارب ہے ، حربی و محارب ایک ہی ہے، جیسے جدلی و مجاد ل، و ہ ذمی و معاہد کا مقابل ہے ۔ رازدار بنانا ذمی و معاہد کوبھی جائز نہیں ۔ امیر المؤمنین کا مذکورہ ارشاد ذمی ہی کے بارے میں ہے ۔ یوں ہی موالات مطلقا جملہ کفار سے حرام ہے ،حربی ہو یا ذمی ۔ ہاں صرف
دربارئہ برو احسان ان میںفرق ہے ۔ معاہد سے جائز ہے کہ
لاَ یَنْہَکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِی الدِّیْنِ ،
اللہ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین میں نہ لڑے ۔
اور حربی سے حرام کہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۰۸۔ التفسیر الکبیرر للرازی، ٭
اِنّمَا یَنْہَاکُمُ اللّٰہُ عَنْ الَّذِیْنَ قَاتِلُو کُمْ فِی الدِّیْنِ ۔
اللہ تمہیں انہیں سے منع کرتا ہے جو تم سے دین میں لڑے۔
تفسیر کبیر میں یہ ہی فرمایا اور یہ ہی اکثر اہل تاویل کا قول بتایا۔ اسی پر اعتماد و
تعویل ہے اور ائمہ حنفیہ کے یہاں تو اس پر اتفاق جلیل ہے ۔ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بلاشبہ رحمۃ للعلمین ہیں اور ارشاد خدا وندی وَاغْلُظْ عَلَیْہِمْ کے نزول سے قبل انواع انواع کی نرمی اور عفو و صفح فرماتے ۔ خود اموال غنیمت میں مؤلفۃ القلوب کا ایک سہم مقرر تھا ، مگر اس ارشاد کریم نے
ہر عفو و صفح کو نسخ فرمایا اور مؤلفۃ القلوب کا سہم ساقط ہوگیا ۔
سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے افضل الاساتذہ اما م عطاء بن ابی رباح رضی اللہ تعالی عنہ جنکی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع