30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللّٰہُ تَعَالیٰ بِقَضَائِکَ ، ثُم قال : أ لَمْ تَرَالرَّکَائِبَ الْمُنَاخَاتِ الْأرْبَعِ فَقُلْتُ: بَلی ، فقا ل: اِنَّ لَکَ رِقَابَہُنَّ وَ مَا عَلَیْہِنَّ ، فَاِنَّ عَلَیْہِنَّ کِسْوَۃً وَ طَعَامًا أہْدَاہُنَّ اِلیّ عَظِیْمُ فِدَکٍ فَاقْبِضْہُنَّ وَ اقْضِ دَیْنِکَ ، فَفعلت فذکرالحدیث ثم انطلقت اِلی المسجد ، فاِذا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قاعد فی المسجد فسلمت علیہ فقال : مَا فَعَلَ مَا قِبَلَکَ ؟ قلت : قَد قضی اللہ کل شیٔ کان علی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فلم یبق شیٔ،قال :أ فَضَلَ شَیٌٔ ، قلت: نعم، قال:اُنْظُرْ اَنْ تُرِیْحَنِی مِنْہٗ فَاِنِّی لَسْتُ بِدَاخِلِ عَلیٰ أحَدٍ مِنْ أہْلِی حَتّی تُرِیْحَنِی مِنْہٗ ، فلما صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم العتمۃ دعانی فقال : مَا فَعَلَ الَّذِی قِبَلَکَ ، قال : قلت : ہو معی لم یاتنا أحد، فبات رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فی المسجد و قص الحدیث حتی اذا صلی العتمۃ ، یعنی من الغد د عانی قال: مَا فَعَلَ الّذِی قِبَلَکَ ؟ قال : قلت: قد أراحک اللہ منہ یا رسول اللہ! فکبر و حمد اللہ شفق من أن یدرکہ الموت و عندہ ذلک ، ثم أتبعتہ حتی اذا جآء أزواجہ فسلم
علی اِمرۃ اِمراۃ حتی أتی مبیتہ فہذا الذی سالتنی منہ ۔
حضرت عبد اللہ ہوزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات کی حلب میں ۔ تو میں نے کہا:اے بلال! حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اخراجات کے بارے میں بیان کرو کہ کس طرح خرچ فرماتے تھے۔ حضرت بلال نے کہا : آپ کے پاس کوئی چیز نہ ہوتی تو میں ہی اسکا بند و بست کرتا ۔یہ سلسلہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تاحیات مقدسہ جاری رہا ۔ حضور کے پاس اگر کوئی شخص ننگا آتا تو آپ مجھے حکم دیتے ۔ میں قرض لیکر اسکو چادر خرید دیتا،پھر اسکو پہنادیتا ،اور کھانا کھلاتا ۔ ایک دن ایک مشرک ملا تو کہنے لگا : اے بلال! میرے پاس بہت مال ہے ۔لہذا میرے سوا کسی دوسرے سے تم قرض نہ لیا کرو ۔میں نے ایسا ہی کیا ۔ ایک دن میں وضو کر کے اذان پڑھنے کیلئے کھڑا ہوا تو وہی مشرک سوداگروں کا ایک قافلہ لیکر آپہونچا۔ مجھے دیکھ کر بولا: اے حبشی ! میں نے کہا: میں حاضرہوں ۔ وہ سختی کرنے لگا اور نازیبا کلمات بکنے لگا اور بولا: جانتا ہے مہینہ پورا ہونے میں کتنے دن باقی ہیں ۔ میں نے کہا: ہاں قریب ہے ۔بولا : دیکھ مہینے میں چار دن باقی ہیں۔ میں اپنا قرض تجھ سے لیکر چھوڑونگا ،اور تجھے ایسا ہی کردونگا جیسے تو پہلے بکریاں چرایا کرتا تھا۔ حضرت بلال کہتے ہیں: میرے دل میں ایسا ملال گذرا جیسے لوگوں کے دل میں گذرتا ہے ۔ پھر میں نے عشا کی نماز پڑھی اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے اندر آنیکی اجازت چاہی ۔آپ نے اجازت مرحمت فرمائی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ، وہ مشرک جس سے میں قرض لیا کرتا تھا ۔ مجھ سے لڑا اور کچھ نازیبا کلمات سے پیش آیا ، آپ کے پاس بھی اتنا ما ل نہیں کہ میرا قرضہ ادا ہو جائے اور نہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع