30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا اس قابل ہے کہ احادیث صحیحہ کے سامنے پیش کی جائے؟ اس کا مخرج ۔
الحسن بن عمارۃ عن الحکم عن مقسم عن ابن عباس ہے ۔
قطع نظر انقطاع سے کہ حکم نے مقسم سے صرف چار حدیثیں سنیں جن میں یہ نہیں ۔ اور امام شافعی کے نزدیک منقطع مردو د ہے ۔ حسن بن عمارہ متروک ہے ۔ کما فی التقریب اور مرسل زہری مروی جامع ترمذی و مراسیل ابی داؤد ایک تو مرسل کہ امام شافعی کے یہاں مہمل ،اور سند مراسیل میں ایک انقطاع حیات بن شریح و زہری کے درمیان ہے ۔ تہذیب التہذیب میں
امام احمد سے ہے ۔
لم یسمع حیاۃ من الزہری ۔
دوسری مرسل زہری کا جسے محدثین پا بر ہوا کہتے ہیں۔ تیسرے ضعیف بھی کما فی
الفتح ۔ یوں ہی بیہقی نے کہا: اسنادہ ضعیف و منقطع،
نصب الرایہ میں ہے ۔ انہا ضعیفۃ ۔
اقول : اور کچھ نہ ہو تو ا س میں یہ ہی تو ہے کہ ۔ أسْہَمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
لِقَوْمٍ مِّنَ الْیَہُوْدِ قَاتَلُوا مَعَہٗ ۔
اس سے استعانت کہاں ثابت ۔ ممکن کہ انہوں نے بطور خود قتال کیا ہو۔ اور پانچواں
جواب امام طحاوی سے آتا ہے کہ سرے سے قاطع استناد ہے ۔
رہا قصہ صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا، قبل اسلام غزوئہ حنین شریف میں ہمراہ رکاب اقدس ہونا ضرورثابت ہے مگر ہرگز نہ ان سے قتال منقول ،نہ ہی یہ کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان سے قتال کو فرمایاہو، صرف اس قدر ہے کہ سو زرہ ، خود، بکتر۔ اور ایک روایت میں چار سو ان سے عاریت لئے ۔ اوروہ بطمع پرورش سرکار عالم مدارکہ مؤلفۃ القلوب سے تھے ہمراہ لشکر ظفر پیکر ہولئے ۔ انکی مراد بھی پوری ہوگئی اور اسلام بھی پختہ و راسخ ہوگیا ۔ سرکار اقدس
صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے غنائم سے اتنا عطا فرمایا اتنا عطا فرمایا کہ یہ بے اختیار کہہ اٹھے ۔
و اللہ! ما طابت الانفس نبی ۔ خدا کی قسم !اتنی عطائیں خوش دلی سے دینا نبی کے سوا کسی کا کام نہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع