30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بِالْجَوْفِ عِنْدَ سَبَا،وَ اَمَّا یَعُوْقُ فَکَانَتْ لِہَمْدَان، وَ اَمَّا نَسْرٌفَکَانَتْ لِحَمِیْرٍ لاِٰلِ ذِی الْکِلَاعِِ ، وَ نَسْراً أسْمَائُ رِجَالٍ صَالِحِیْنَ مِنْ قَوْمِ نُوْحٍ ، فَلَمَّا ہَلَکُوْا اَوْحَی الشَّیْطَانُ اِلیٰ قَوْمِہِمْ اَ نْ اَنْصِبُوْا اِلیٰ مَجَالِسِہِمُ الَّتِی کَانُوا یَجْلِسُونْ أنْصَابَا وَ سَمَّوْہَا بِأسْمَائِ ہِمْ فَفَعْلُوْا
فَلَمْ تُعْبَدْ حَتّی اِذَا ہَلَکَ اُوْلٓئِکَ وَ تَنَحَّ الْعِلْمُ عُبِدَتْ ۔ اعالی الافادۃ ص ۱۳
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم میں جو بت پوجے جاتے تھے وہی اہل عرب نے بعد میں اپنے معبود بنالئے ، ود، بنی کلب کا بت تھا جو دومۃ الجندل کے مقام پر رکھا ہوا تھا ، سواع، بنو ہزیل کا بت تھا ، یغوث بنومراد کا بت تھا ، پھر بنوغطیف نے اسکو اپنا بنالیا جو سبا کے پاس جو ف میں تھا۔ یعوق ہمدان کا ،اور نسر ، ذو الکلاع کی آل حمیر کا بت تھا ۔ یہ حضرت نوح علیہ السلام کی قو م کے نیک لوگوں کے نام ہیں ۔جب و ہ وفات پاگئے تو شیطان نے انکی قوم کے دلوں میں یہ بات ڈالی کہ جن مقامات پر وہ اللہ والے بیٹھا کرتے تھے وہاں انکے مجسمے بنا کر رکھ دو ۔ اور ان بتوں کے نام بھی ان نیکوں کے نام پر رکھ دو ۔ لوگوں نے عقیدت کی بنیاد پر ایسا کر دیا لیکن انکو وہ پوجتے نہیں تھے
جب وہ لوگ دنیا سے چلے گئے اور علم بھی کم ہوگیا تو انکی پوجا ہونے لگی ۔ ۱۲م
۸۳ ۔ عن عبید اللہ بن عبد اللہ بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم :أوَّلُ مَاحَدَثَتِ الْأصْنَامُ عَلیٰ عَہْدِ نُوْحٍ وَ کَانَتْ الْأبْنَائُ تَبِرُّالْآبَائُ فَمَاتَ رَجُلٌ مِنْہُمْ فَجَزَعَ عَلَیْہِ ابْنُہٗ فَجَعَلَ لَایَصْبُرْ عَنْہٗ فَاتَّخَذَ مِثَالاً عَلیٰ صُوْرَتِہٖ فَکُلَّمَا اشْتَاقَ اِلَیْہِ نَظَرَہٗ ثُمَّ مَاتَ فَفُعِلَ بِہٖ کَمَا فَعَلَ، ثُمَّ تَتَابَعُوْا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۸۲۔ الجامع الصحیح للبخاری، التفسیر ، ۲/۷۳۲
۸۳۔ یہ حدیث مجھے نہیں ملی
عَلیٰ ذَلِکَ الآبَائِ فَقَالَ الْاَبْنَائُ مَا اتَّخَذَ ہٰذِہٖ آبَائُ نَااِلَّا اَنّہَا کَانَتْ اٰلِہَتُمْ فَعَبَدُوْہَا۔
اعالی الافادہ ص ۱۳
حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سب سے پہلے بت حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایجاد ہوئے ۔اس زمانہ میں بیٹے اپنے آباء و اجداد کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ۔ایک مرتبہ ایک شخص کا انتقال ہوا ۔بیٹے نے جزع
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع