30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زیاد وغیرہم رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی شاندار حدیثی خدمات سے اہل علم واقف ہیں اور آئندہ تفصیلات آرہی ہیں ۔ان حضرات کی جدوجہد نے روزاول ہی اس سیلاب پر بندباندھ دیاتھا کہ موضو ع احادیث شرعی امورمیں دخیل نہ ہونے پائیں ۔صحیح کوغلط بلکہ ضعیف تک سے جداکرکے اس بات کی صراحت کردی گئی تھی کہ جملہ احادیث نہ استدلال میں مساوی ہیں اور نہ عمل میں ۔عقیدہ وعمل میں کام آنے والی احادیث کے مراتب متعین کردیئے گئے تھے، اورامام اعظم قدس سرہ کے شرائط توبجائے خود اتنے سخت تھے کہ آج تک لوگوں کویہ شکوہ ہے کہ انہوں نے احادیث رسول کا اکثرذخیرہ لائق اعتناہی نہیں سمجھا ،حالانکہ یہ بھی تعصب وعناد پر مبنی
ہے ،آئندہ آپ اسکی بھرپور وضاحت ملاحظہ کرینگے کہ حقیقت حال کیا ہے ۔
امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک لاکھ احادیث سے مؤطالکھی ،علم حدیث کی عظمت اورکمال احتیاط دونوں ہی آپکو ملحوظ تھیں ،اولاً نوہزار احادیث پر مشتمل تھی لیکن آپ اسکو باربار قرآن عظیم پرپیش کرتے رہے اوراب تعداد چھ سوسے کچھ اوپر ہے ۔پھریہ کیونکر متصور کہ اس میں جعلی حدیثیں ہونگی ۔
امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورآپکے اصحاب توعلم روایت ہی کے خوگرتھے ،پوری
زندگی نشر حدیث وفقہ میں گذری ۔
اورآخرمیں امام احمدبن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنکی علم حدیث میں رفعت شان مسلم چیزہے ۔کہتے ہیں ساڑھے سات لاکھ احادیث کے حافظ تھے ،ان سے آپکی مسند میں ستائیس
ہزارایک سو احادیث ہیں ۔
یہ ہے ائمہ اربعہ کی علم حدیث میں منصف مزاجی اوران کامحتاط رویہ ،پھروہ کون فقہاء
ہیں جنہوں نے جعلی حدیثوں کو ماخذ بنایا اورقانون اسلام کی حیثیت دی ۔
ائمہ مذاہب اورحدیث وفقہ کی بابغۂ روز گار شخصیات میں سے کسی کانام پیش کئے بغیر بالعموم یہ حکم صادر کردینا ظلم ہے اوروہ حضرات اس سے بہت بلند تھے ۔ہاں یہودونصاری کے نام نہاد محققین مستشرقین کی طرف سے ایسا الزام ہوتاتو ان سے جائے شکایت ہی کیا انہوں نے توجلیل القدر صحابہ کرام مثل ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورعظیم ائمۂ حدیث مثل امام بخاری علیہ رحمۃ الباری وغیرہم کوبھی نہ چھوڑا ،انکوبھی نشانہ تنقید بنایا،توکیاہم اہل اسلام انکی خاطر اپنے اصول اوراپنی حقیقی تاریخ سے دست بردار ہوجائینگے ؟ آئندہ اوراق میں آپ ان اساطین ملت
کی خدمات جلیلہ پر مشتمل تفصیلات پڑھکر خود فیصلہ کرلیںگے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع