30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان سب کو باقاعدہ مدون کرکے رہتی دنیا تک کیلئے مشعل راہ بنادیا ۔ انکے یہ اصلاحی کارنامے ہردور میں عزت کی نگاہ سے دیکھے گئے اور برملا اعتراف کرنے
میں کبھی کسی انصاف پسند شخص نے چون وچرا نہ کی ۔
اس اجمال کی تفصیل قارئین آئندہ اوراق میں ملاحظہ فرمائینگے ،یہاں مجھے یہ بتانا ہے کہ انکار حدیث کا فتنہ کس انداز سے اٹھاتھا اور اب کہاں تک جاپہونچا ۔ دشمنان اسلام کی ریشہ دوانیوں سے شکایت ہی کیا ،انکا وطیرہ اور روز مرہ کا معمول ہی یہ رہاہے کہ اسلام کی ترقی میں رخنہ اندازی سے پیش آئیں ۔کیونکہ علوم اسلامیہ کی ترویج واشاعت انکو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ ہاں ان لوگوں سے ضرور شکوہ ہے جو کلمہ تو اللہ ورسول کا پڑھتے ہیں لیکن ان اسلام دشمن طاقتوں سے مرعوب ہوکر انکی تحقیق کو اپنے لئے واجب الاذعان ماننا ہرفرض سے اہم فرض گردانتے ہیں، اگر کسی بیچارے مستشرق نے تعصب وعناد کی عینک لگاکر اپنی خود ساختہ تحقیق پیش کردی تواس کی ہاں میں ہاں ملانا اپنے لئے سرمایہ ٔآخرت سمجھ لیتے ہیں ۔ یہ لوگ خود اپنے آپ کو بھی فریب دیتے ہیں اورامت مسلمہ کو بھی اپنے فریب میں مبتلا کرنے سے ایک آن نہیں تھکتے ۔ایسے لوگ رہبری کے بھیس میں رہزنی کرنے کے خوگرہیں اس لئے ان سے ہوشیار رہنا ازبس ضروری ہے ۔
منکرین حدیث بالفاظ دیگر اہل قرآن نے مستشرقین سے سیکھ کر ذخیرئہ احادیث پر کچھ تغیروتبدل کے ساتھ اعتراضات کئے ہیں ،اس جماعت کے سرخیل عبداللہ چکڑالوی ،احمد دین
امرتسری ،اسلم جیراجپوری، محمد حسین عرشی اورغلام احمد پرویز وغیرہم ہیں ۔
یہاں ان کے چند مشہور شبہات کے جواب مقصود ہیں تاکہ ہمارے قارئین ان سے
خبردار اورہوشیار رہیں ۔ یہ شبہات منکرین کی کتاب ’’دو اسلام‘‘ وغیرہ سے ماخوذ ہیں ۔
شبہ ۱۔تمام فقہائے اسلام اس بات کو بالاتفاق مانتے ہیں کہ جیسے جیسے زمانہ گذرتاگیا جعلی حدیثوں کاایک جم غفیر اسلامی قوانین کاایک جائز اورمسلم ماخذ بنتا چلاگیا۔
جواب ۔ یہ بات بالکل بے بنیاد اورسراسر خلاف واقع ہے کہ ائمہ فقہ اس بات پر متفق
ہیں ۔
امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کتاب الآثار ،اور آپکے تلامذہ میں امام ابویوسف ،امام محمد ،امام حسن بن
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع