30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گوہڈ زیہرکی اس ساری خرافات میں صرف اتنی بات صحیح ہے کہ عہد قدیم میں کچھ لوگوں نے نیک نیتی اور کچھ نے بد نیتی کے ساتھ وضع حدیث کی کوشش کی لیکن یہ ساری جد و جہد رائیگاں گئی اور خیر القرون کے مبارک و مسعود ماحول نے ان سارے اقوال کو ذخیرئہ حدیث
سے کاٹ چھانٹ کر الگ کردیا ۔
یہ وہ دور تھا جبکہ دنیا ان نفوس قدسیہ سے خالی ہوچکی تھی جنہوں نے شمع رسالت سے بلاواسطہ اکتساب فیض کیا تھا ،صحابہ کرام کا مقدس گروہ اپنے فیوض وبرکات ، عشق وعرفان اور علم وآگہی کی روشنیاں پھیلاکر اس عالم فانی سے رخصت ہوچکاتھا ۔لیکن انہوں نے اپنے پیچھے
ایسے قدسی صفات نفوس چھوڑے تھے جنکے شعور وآگہی کالوہا عامۃ المسلمین ہی نہیں بلکہ علم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۸۔ ضیاء النبی ۷/۱۹
وافضل کے کوہ شامخ اوراسلام کے بطل جلیل بھی مانتے تھے اورسلاطین وقت جنکی عزت وکرامت کے سامنے سرخمیدہ رہتے ،اس جماعت کو تابعین اور ائمۂ مجتہدین کے نام سے تاریخ اسلام نے اپنے صفحات میں محفوظ کرلیا ہے ۔ ان حضرات کی شبانہ روز یہ ہی جدوجہد رہتی تھی کہ حق کو باطل سے ممتاز کریں ،احادیث صحیحہ کو موضوع اور من گڑہت اقوال سے جداکرکے خط
امتیاز قائم کردیں تاکہ آئندہ لوگوں کو سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے میں دشواری نہ ہو ۔
مستشرقین کا مطمع نظر تو واضح طور پر اسلام کی بیخ کنی ہے ، کسی اصول وضابطۂ اسلامی
میں اصلاح ہرگز مقصود نہیں ہوتی بلکہ ناصح بنکر تخریب کاری ان کا محبوب مشغلہ رہتاہے ۔
ذخیرہ حدیث میں موضوع روایات کی آمیزش آج مستشرقین کی کوئی اپنی تحقیق نہیں بلکہ ائمہ ٔ علم وفن روزاول ہی سے اس سے ہوشیار رہے ہیں ۔اسی لئے انہوں نے جرح وتدیل اوراسماء الرجال کا عظیم فن ایجاد کیا جسکے تحت تقریباً پانچ لاکھ راویان حدیث کی سیرت وسوانح تیار
کی گئی جوتاریخ عالم میں اپنی مثال آپ ہے ۔
وضع حدیث کی جانچ پرکھ کیلئے ان مضبوط ومستحکم دلائل کے ذریعہ دودھ کادودھ اور پانی کا پانی کردیاگیا ۔مراتب حدیث متعین کئے اورہر حیثیت سے کھرے کھوٹے کی تمیز کیلئے اصول وضع کئے گئے ، بعد کے لوگوں نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع