30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مثلا تفسیر، حدیث ، اسلامی معیشت ، اسلامی سیاست، سائنس وغیرہ ۔
علم حدیث پرامام احمد رضا علیہ الرحمہ کے تبحر ، بصیرت اور صحت نظری کا اس سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ علمائے حرمین شریفین اور علمائے عرب نے علم حدیث میں آپ سے
اجازتیں لیں ،(۲۸)…۔ راقم کے علم میں کوئی ایساعجمی عالم نہیں کہ دنیائے عرب میں جس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۸۔ رسائل رضویہ ، لا ہور ، ۱۹۷۶ء ج،۷۲، ص ۲۲۷-۳۵۹
نوٹ:۔ علماء حرمین شریفین سے امام احمد رضا علیہ الرحمہ کا تفصیلی تعارف اس وقت ہوا جب آپ ۱۳۲۳ھ/۱۹۰۵ء میں حج بیت اللہ شریف اور زیارت حرمین شریفین کیلئے دو بارہ حاضر ہوئے، تعارف کی تقریب یہ ہوئی کہ ہندی مخالفین نے مسئلہ علم غیب سے متعلق ایک استفتاء پیش کیا وہ یہ سمجھے کہ آپ سفر میں ہیں اور کتابیں ساتھ نہیں ، شاید جواب نہ لکھ سکیں گے ، امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے محض قوت حافظہ کی بنا پر ایسا فاضلانہ اور محققانہ جواب لکھا کہ علماء حیران رہ گئے۔ اس فتوے کا نام ’’ الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبۃ ، ‘‘ رکھا، پھر یہ فتوی شریف مکہ کے دربار میں ساڑھے تین سو علماء عرب کے سامنے دو نشستوں میں پڑھا گیا جس سے امام احمد رضاکا غائبانہ تعارف ہوا۔ پھر بات پھیلتی چلی گئی اور زیارت کا شوق بڑھتا چلا گیا ۔ اس فتوے پر بکثرت علمائے عرب نے تقاریظ لکھیں جس کی تفصیل راقم کی کتاب امام احمد رضا اور عالم اسلام،
کراچی ۲۰۰۰ء اور پروفیسر ڈاکٹر محمد احمد عبد الرحیم المحفوظ( استاد جامعہ ازہر شریف قاہرہ) کی کتاب
کی اتنی پذیر ائی ہو ئی ہو، اور جس سے علماء نے اس قدر اجازات اور سندات حدیث لی ہوں، مکہ معظمہ کے مشہور عالم علامہ سید محمد بن علوی مالکی نے کراچی میں دار العلوم مجددیہ نعیمیہ کے درس حدیث کی ایک محفل میں خود فرمایا: کہ ان کے والد ماجد سید علوی مالکی نے امام احمد رضا کے صاحب زادے مفتی اعظم مصطفی رضا خاں علیہ الرحمہ سے اجازت لی اور خود انہوں نے بھی اجازت حاصل کی ۔
علم حدیث اور علوم دینیہ میںامام احمد رضا علیہ الرحمہ کے تبحر کا اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ آپ نے خود سندات اجازت جاری نہیں کیں بلکہ علمائے حرمین شریفین نے آپ سے
خود سندات اجازت طلب کیں ۔
الاجازاۃ المتینہ لعلماء بکۃ و المدینۃ، (۱۳۲۴ھ/ ۱۹۰۶)
مشمولہ رسائل رضویہ جلد دوم، لاہور، ۱۹۷۶ء میں جو خطوط شامل ہیں ان سے اس کا
اندازہ ہوتاہے ۔ شیخ عبد القادر ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع