30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امام احمد رضا علیہ الرحمہ کے شعور پر علم حدیث چھایا ہو اتھا ، ان کا ظاہر و باطن سنت کے رنگ میں رنگا ہو اتھا ، کوئی بات کوئی کام کوئی تحریر حدیث کے خلاف نہ تھی۔ ان کی شاعری میں بھی اکثر اشعار احادیث کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں جب کہ دوسرے بہت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۲۔ ابو الحسن ندوی ، نزہۃ الخواطر، ج، ۸، ص ۴۴
نوٹ:۔ تعجب ہے کہ ابو الحسن علی ندوی نے یہ بات کیسے لکھ دی ، اصل کتاب ان کے والد حکیم عبد الحی لکھنوی کی تالیف ہے ۔ ابو الحسن علی ندوی نے اس میں اضافے کئے ہیں۔ یہ اضافہ بھی انہیں کا ہے ۔ ۱۹۹۱ء میں راقم علی گڑھ گیا تھا ، وہاں صدر شعبہ سنی دینیات پروفیسر اقبال احمد انصاری سے ملاقات ہوئی جو نزہۃ الخواطر کے جدید ایڈیشن کے نگراں تھے ۔ جب ان کے علم میں یہ بات لائی گئی تو انہو ں نے کشادہ دلی سے کہا کہ کتاب میں جو غلطیاں ہوں ان کی نشاندہی کردی جائے۔ دوسرے دن وہ نزہۃ الخواطر کے متعلقہ اور اق کی فوٹو کاپی فقیر کی قیام گاہ پرلائے جب کہ فقیر روانہ ہو نے والا تھا۔ چوںکی راقم سفر میں تھا
اسلئے اغلاط کی نشاندہی اور اصلاح نہ کر سکا ، شاید بعد میں پاکستان سے ضروری مواد بھیج دیا گیا تھا۔ مسعودؔ
۲۳۔ اظہار الحق الجلی ، مطبوعہ ، ۱۹۹۶ء ص، ۲۴
۲۴۔ یسین اختر مصباحی ، امام احمد رضا ارباب علم و دانش کی نظر میں ، ص،۱۳۲(ملخصا)
سے مشہورو معروف شعراء کی شاعری قرآن و حدیث سے یکسر خالی نظر آتی ہے ، بیشک جس نے زندگی کو جانا پہچانا اس نے قرآن و حدیث کی ترجمانی کی ، جو زندگی سے بے خبر رہا وہ قرآن
و حدیث سے بے خبر رہا ، خواہ وہ علم و دانش کی کتنی ہی بلند یوں تک پہونچا۔
سید مصطفی حیدر حسن میاںعلیہ الرحمہ نے راقم سے ایک ملاقات میں فرمایاکہ تاج العلماء سید محمد میاںقادری فرماتے ہیں ۔ (۲۵)…کہ ’’ امام احمد رضا علیہ الرحمہ کے افادات بھی افاضات ہوتے تھے۔ علامہ محمد ظفر الدین رضوی (۱۳۸۲ / ۱۹۶۲ئ) نے اپنی کتاب جامع الرضوی جلد دوم مطبوعہ حیدرآباد سندھ ۱۹۹۳ئ) کے مقدمے میں امام احمد رضا علیہ الرحمہ کے افادات کا ذکر فرمایا ہے۔ جن کی تعداد ۳۲ ہے ان سب کا تعلق علم حدیث سے ہے۔
وہ مقدمہ میں فرماتے ہیں:۔
ولنقدم قبل الشروع فی المقصود مقدمۃ یشتمل فوائد التقطتہا من تصانیف العلماء لا سیما سیدی وملا ذی وشیخی و استاذی شیخ الاسلام و المسلمین ،وارث علوم سید المرسلین ،مؤید الملۃ الطاہرہ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع