30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انظر آتا ہے ۔ انہوں نے
علم حدیث میں جو چمکتا دمکتا نقش قائم کیا تھا ایسا نقش کوئی قائم نہ کر سکا ۔
امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے مندرجہ ذیل علماء سے سند حدیث حاصل فرمائی :۔
۱۔ شیخ احمد زینی دحلان الشافعی المکی۔ (۲۹۹اھ/۸۸۱ائ)
۲۔ شیخ عبد الرحمن سراج مفتی الاحناف بمکہ ، (۳۰۱اھ/۱۸۸۳ئ)
۳۔ شیخ حسین صالح جمل اللیل المکی ، (۱۳۰۲ھ/ ۱۸۸۴ئ)
امام احمد رضا بریلوی علم حدیث میں ہر حیثیت سے یگانۂ روزگار اور اپنی مثال آپ تھے، ان کی نظر اقسام حدیث پر بھی تھی اور کتب حدیث پر بھی، علامہ محمد حنیف رضوی نے ایسی
۴۰۰ سے زیادہ کتب حدیث دریافت کی ہیں جن سے امام احمد رضا علیہ الرحمہ نے استفادہ فرمایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۶۔ الاجازاۃ الرضویہ(۱۳۲۳ھ)مشمولہ رسائل رضویہ ، لاہور، ۱۳۹۶ھ ج،۲ ص، ۲۹۹-۳۰۷
۱۷۔ الفضل الموہبی ، مطبوعہ مجلس رضا لاہور ۴۰۰اھ /۱۹۸۰ء
۱۸۔ محمد ظفر الدین رضوی ، صحیح البہاری ، ص،۴-۲۶، حیدرآباد سندہ ، ۱۹۹۲ء
ہے ، اللہ اکبر! امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی بلند پایہ تصانیف سے علم حدیث اور متعلقات حدیث
میں ان کے تبحر کا اندازہ لگایا جا سکتاہے، فن حدیث میں وہ بصیرت کہ یو ں محسوس ہوتا ہے کہ ساری عمر اس فن کی تحصیل میں گزاری ہے۔ بقول پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل صاحب
استاذ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ، اسلام آباد،)
امام احمد رضا بریلوی اصول حدیث، جرح و تعدیل ، سلسلہ رواۃ اور علم الر جال پر بھی وسیع نظر رکھتے تھے او ر انہوں نے مسائل کے استنباط اور ان کے استدلال اور وجوہ بیان
کرنے کے لئے ان علوم سے بھر پور استفادہ کیا ہے …(۱۹)
تلمیذ امام احمد رضا، علامہ سید محمد محدث کچھوچھوی فرماتے ہیں:۔
علم حدیث میں سب سے نازک شعبہ علم رجال کا ہے ،اعلیٰ حضرت کے سامنے کوئی سند پڑھی جاتی اورراویوں کے بارے میں دریافت کیا جاتا تو ہر راوی کے جرح و تعدیل کے جو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع