30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آپ نے سیکڑوں قلمی جواہر پارے قوم کو عطا فرمائے جن کو دیکھ کر عجم ہی نے نہیں بلکہ عرب نے بھی آپ کی مدح و ستائش کی ۔ اورسب نے آپ کے علم و فضل کو تسلیم کیا ۔
اس عظیم ہستی کو رحلت فرمائے ہوئے اگرچہ پون صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن آپ اپنے بے مثال کارناموں کی وجہ سے آج بھی زندہ ہیں ۔ اور اپنی بیش بہا تصانیف کی صورت میں گویا اپنے موسلادھار فیضان و کرم کے ساتھ ہمارے درمیان جلوہ افروز
ہیں ۔
آپ کے مخالفین آپ کی خدادادعظمت و مقبولیت کو برداشت نہ سکے اور انہوں نے طرح طرح سے آپ کو بدنام کرنے اور آپ کے علم و فضل کو گھٹانے کی سعی لا حاصل کی ، ایک صاحب نے تو گویا دن کی روشنی میں آفتاب کا انکار کرنے کی کوشش کی اور کہا اعلیٰ حضرت
علم حدیث میں قلیل البضاعت تھے ۔
متعدد علمائے کرام نے اس کذب بیانی کا پردہ فاش کیا اور واضح دلائل کے ساتھ ثابت کردیا کہ اعلیٰ حضرت کو دیگر علوم و فنون کی طرح علم حدیث اور اس کے متعلقات پر بھی ید طولیٰ اور مہارت تامہ حاصل تھی۔
آقائے نعمت منبع فیض و حکمت استاذ گرامی حضرت علامہ مولانا محمدحنیف خاں صاحب قبلہ مد ظلہ المنیف نے بھی اپنا قلم با فیض اٹھا یا اورجامع الاحادیث جیسی عظیم الشان کتاب تالیف فرماکر مخالفین کی جانب سے ہونے والے اس اعتراض کا بہت ہی موثر انداز میں ازالہ فرمادیا ۔
حضرت مد ظلہ العالی نے احادیث کے اس مجموعے سے ثابت کر دیا کہ اعلی حضرت امام عشق ومحبت کو جملہ علوم حدیث میں جو صلاحیت خاصہ اور مہارت تامہ حاصل ہے اس کی نظیر شاید ہی کہیں ملے ۔
ہم عصر علماء و محدثین آپ کے تبحر علم حدیث کا واضح طور پر اعلان فرماتے ہیں۔
عمدۃ المحدثین حافظ بخاری حضرت محدث سورتی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :۔
وہ اس وقت امیر المومنین فی الحدیث ہیں ۔
حضرت محدث اعظم ہند کچھوچھوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :۔
علم الحدیث کا اندازہ اس سے کیجئے کہ جتنی حدیثیں فقہ حنفی کی ماخذ ہیں ہر وقت پیش نظر ہیں ، اور جن حدیثوں سے فقہ حنفی پر بظاہر زد پڑتی ہے ان کی روایت و درایت کی خامیاں ازبر۔ علم حدیث میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع