30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گزرچکی ۔
جیسے ۔ المزید فی متصل الاسانید۔
زیادتی ثقہ کے تحت خاص طور پر حدیث کے وصل و ارسال ، اور وقف ورفع کا تعارض زیر بحث آتا ہے ۔
جہالت راوی
عدالت میں طعن کے وجوہ پانچ شمار کئے گئے تھے ،ان میں سے کذب اور اتہام کذب کا بیان موضوع اور متروک کے عنوان سے کیا جا چکا ۔ اور فسق راوی کا ذکر منکر کے ضمن میں گزرا اب جہالت راوی کا بیان ہے ۔
جہالت راوی سے مراد یہ ہے کہ راوی کی عدالت ظاہر ی اور باطنی معلوم نہ ہو ایسے راوی کو ’’ مجہول الحال ‘‘ کہتے ہیں اور اس کی حدیث کو’’ مبہم ‘‘۔
جیسے کہتے ہیں :۔
حدثنی رجل ۔ یا حدثنی شیخ۔
ایسے راوی کی حدیث مقبول نہیں ۔ ہاں اگر حدیث مبہم بلفظ تعدیل وارد ہو ، جیسے حدثنی ثقہ ، یا ’اخبرنی عدل‘ تو اس میں اختلاف ہے ۔اصح یہ ہے کہ مقبول نہیں۔ کیونکہ جائز ہے کہ کہنے والے کے اعتقاد میں عدل ہو اور نفس الامر میں نہ ہو ۔ اور اگر کوئی امام حاذق یہ الفاظ فرمائے تو مقبول ہے ۔ اور اگر راوی کی عدالت ظاہری معلوم ہے اور باطنی کی تحقیق نہیں اس کو مستور کہتے ہیں اور اگر راوی سے صرف ایک ہی شخص نے روایت کی ہے تو اسکو مجہول العین کہتے ہیں ، ان دونوں کی روایت محققین کے نزدیک قابل احتجاج ہے ۔
امام نووی قدس سرہ القوی منہاج میں فرماتے ہیں :۔
المجہول اقسام ، مجہول العدالۃ ظاہرا و باطنا ، و مجہولہا باطنا مع وجود ہا ظاہر ا و ہو المستور ، ومجہول العین ۔ فاما الاول فالجمہور علی انہ لا یحتج بہ ،اما الآخران فاحتج بہما کثیرون من المحققین ۔ (۱۱۲)
اس کی بعض تفصیلات حسب ذیل ہیں:۔
راوی کبھی کثرت صفات و القاب کی وجہ سے ،کبھی قلت روایت کی وجہ سے اور کبھی نام کی عدم صراحت کی وجہ سے مجہول ہوتا ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع