30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اب زیادتی ثقات کو علیٰحدہ ایک مستقل علم و فن اور باب قرار دیکر اس سے بحث مقصود ہے ۔ زیادتی متن میں بھی ہوتی اور سند میں بھی ۔
متن میں زیادتی کی تین قسمیں ہیں :۔
Xزیادتی منافی Xزیادتی غیر منافی Xزیادتی منافی از بعض وجوہ
زیادتی منافی:- ایسی زیادتی جو دوسرے ثقات یا اوثق کی روایت کے منافی و معارض ہو ۔
مثال جیسے:۔
عن عقبۃبن عامر قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : یوم عرفۃ و یوم النحر و ایام التشریق عیدنا اہل الاسلام و ہی ایام اکل و شرب ۔ (۱۰۹)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یوم عرفہ و ذوالحجہ اور یوم نحر ۱۰؍ ذوالحجہ اور ایام تشریق ۱۱؍۱۲؍۱۳؍ ذوالحجہ ہم مسلمانوں کی عید کے ایام ہیں اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۔
اس حدیث میں ’’یوم عرفۃ ‘‘ کی زیادتی ہے اور یہ زیادتی صرف موسی بن علی سے منقول ہے باقی طرق میں منقول نہیں ۔ اور یہ دیگر روایات کے منافی بھی ہے کہ دوسری روایتوں میں تو ۹؍ ذوالحجہ کے روزہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور اس میں ممانعت ۔
حکم : - یہ مثل شاذ ہے:۔
زیادتی غیر منافی :- ایسی زیادتی جو معارض و منافی نہ ہو ۔
مثال : - عن الاعمش عن ابی رزین و ابی صالح عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : اذا ولغ الکلب فی اناء احدکم لیغسلہ سبع مرار۔ (۱۱۰)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کتا تمہارے برتن میں منہ ڈالے تو اسکو سات مرتبہ دھولو۔
اما م اعمش تک تمام راوی اس متن پر متفق ہیں لیکن آپ کے بعد آپ کے تلامذہ میں علی بن مسہر نے’’ فَلْیُرِقْہ ‘‘کا اضافہ کر دیا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع